ابنا: انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ، سندھ حکومت، کراچی کی انتظامیہ، پولیس و دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام سے سوال کیا کہ دہشت گردوں کی مسلسل فائرنگ اور راکٹوں کے حملوں سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور دس سے زائدخواتین اوردیگرافرازخمی بھی ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ اب تک سندھ حکومت اورکراچی کی انتظامیہ، پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اس تمام تر کھلی دہشت گردی کو رکوانے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ اس شورش زدہ علاقے سے غائب ہیں ۔الطاف حسین نے کہا کہ کمشنر کراچی نے متاثرہ خاندانوں کویقین دلایاتھا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں، انہیں مکمل تحفظ فراہم کیاجائے گا۔ لیکن واپس آنے والے کچھی برادری کے ان خاندانوں پر جدید ترین اسلحے سے فائرنگ، راکٹ لانچروں سے حملے اوربموں کے دھماکے کرکے ان کی خوشیوں کو سرے سے خاک میں ملادیاگیا۔الطاف حسین نے وزیراعظم نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت سندھ کراچی کے عوام اورتاجروں کو لیاری میں گینگ وار کے دہشت گردوں اور بھتے کی پرچیاں دینے والوں سے نجات دلانے میں مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے، لہٰذا وفاقی حکومت اگر کراچی کے نہتے عوام اور تاجربرادری کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی آئنی و قانونی وجہ سے مجبورہے توپھرکراچی کے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ اورتاجربرادری کے کاروبارکوتحفظ فراہم کرنے کی غرض سے کراچی کے انتظام کوفوج کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کریں۔
.......
/169