ابنا: مسلح افواج کے ڈپٹي کمانڈر جنرل مسعود جزائري نے کہا کہ ايٹمي مذاکرات کابہانہ ہو يا پھر کوئي اور مسئلہ ، کسي بھي چيزکي آڑ ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي کلي اور اصولي پاليسي پراثرانداز نہيں ہوا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ امريکا ميں علاقے کےحقائق اور واقعات خاص طور پراسلامي جمہوريہ ايران کے اندر کے حقائق کو صحيح طريقے سے در ک کرنے کي توانائي نہيں ہے ۔انہوں نے کہا کہ يہ تعجب کي بات ہے کہ ابھي بھي بعض امريکي حکام ايران پر فوجي طريقے سے دباؤ ڈالنے کي باتيں کررہے ہيں اور وہ يہ سمجھ رہے ہيں کہ دھمکيوں کے ذريعے ايران کے سياستدانوں پر وہ اثر انداز ہوسکتے ہيں ۔ انہوں نے ايران کےساتھ مذاکرات اور تعلقات کے سلسلے ميں امريکا کے فريبي نعروں اور باتوں کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ امريکا نہ تو اپني سياسي اور اقتصادي چالوں سے اور نہ ہي فوجي انيميشن ڈراموں سے، کسي بھي صورت ميں ايران کے قريب نہيں آسکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر امريکا کو ايران کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ہے تو اسے ايراني عوام سے معافي مانگنا ہوگي اور اپني مخاصمانہ روشوں کو ترک کرنا ہوگا۔
.......
/169