ابنا: فلسطيني انتظاميہ کے سربراہ محمودعباس نے بيت المقدس ميں فلسطيني انتظاميہ اور صہيوني حکومت کے درميان ہونے والے پانچ گھنٹے کے طويل مذاکرات کے اختتام پر رام اللہ ميں اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون کے ساتھ ايک مشترکہ پريس کانفرنس ميں کہاکہ جو کچھ مذاکرات ميں انجام پايا اس کے بارےميں ہم کھلے عام کچھ نہيں سکتے ليکن ہم يہ بات زور دے کر کہتے ہيں کہ فلسطين کے مسئلے کا واحد حل يہ ہے کہ ايک فلسطيني مملکت کا قيام عمل ميں آئے جس کا دارالحکومت بيت المقدس ہو اور فلسطيني عوام کے حقوق بحال کئے جائيں -
فلسطيني انتظاميہ کےسربراہ نے مذاکرات کے نتائج پر خاموشي اختيار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے اس دور ميں فلسطيني انتظاميہ اور صہيوني حکومت کے نمائندوں نے سرحدوں، بيت المقدس اور صہيوني بستيوں کي تعمير کے موضوعات پر بات چيت کي - اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے بھي اس مشترکہ پريس کانفرنس ميں اس بات پر اپني تشويش کا اظہار کرتے ہوئے کہ مقبوضہ علاقوں ميں صہيوني بستيوں کي تعمير کا عمل دوبارہ شروع ہوگيا ہے، کہا کہ دونوں فريقوں کو چاہئے کہ ہر اس اقدام سے پرہيزکريں جس سے مذاکراتي عمل متاثر ہونے کا خطرہ ہو - اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل نے غرب اردن اور مشرقي بيت المقدس ميں صہيوني بستيوں کي تعمير جاري رہنے پر کہا ہميں اس عمل پر گہري تشويش ہے -
انہوں نے اسرائيل کے ذريعے صہيوني بستيوں کي تعمير کوروکوانے کے لئے اقوام متحدہ کي طرف سے کسي عملي اقدام کے انجام نہ پانے کا کوئي ذکر کئے بغير کہاکہ صہيوني بستيوں کي تعمير کا يہ سلسلہ فلسطيني عوام ميں شديد بے اعتمادي کا باعث بنےگا اور پھر اس کے نتيجے ميں دو حکومتوں يعني فلسطيني اور اسرائيلي حکومت کے قيام کے نظرئے کو عملي جامہ پہنانا ناممکن ہوجائے گا -
ان حالات ميں فلسطيني گروہوں نے ايک بار پھر فلسطيني انتظاميہ اور صہيوني حکومت کے درميان سازباز کے مذاکرات کي مخالفت کي ہے – حماس، جہاد اسلامي اور عوامي محاذ برائے آزادي فلسطين جيسي تنظيموں نے الگ الگ بيانات جاري کرکے ان مذاکرات کي مذمت کي اور اس عمل کو محمود عباس کي خودسرانہ پاليسيوں کا نتيجہ قرارديا - بيت المقدس ميں فلسطيني انتظاميہ اور صہيوني حکومت کے درميان سازباز کے مذاکرات کا دوسرا دور جو پانچ گھنٹے تک جاري رہا، ختم ہوگيا اس سے پہلے مذاکرات کا دور واشنگٹن ميں ہوا تھا اور اس ميں بھي کوئي نتيجہ نہيں نکل سکا تھا۔ اب مذاکرات کا تيسرا دور رام اللہ يا پھر اريحا ميں ہوگا ۔ سازباز کے مذاکرات کا يہ سلسلہ تين سال کے توقف اور تعطل کے بعد شروع ہوا ہے۔
.......
/169