اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام میں مارچ ۲۰۱۱ میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ایک لاکھ ایک سو اکیانویں افراد جانبحق ہوئے ہیں جن میں ۳۶ ہزار ۶۶۱ عام شہری ہیں۔شام میں جانبحق ہونے والوں میں سے ۲۴ ہزار شام کے فوجی ہیں جبکہ ۱۸ ہزار ۷۲ دھشتگرد ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس ملک میں بے گھر ہو کر دوسری جگہ پناہ لینے والوں کی تعداد ۲۰ لاکھ ہے جن میں آدھے سے زیادہ ۱۸ سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔شام سے موصولہ تازہ رپورٹ کے مطابق اس ملک کے شہر داریا میں دھشتگردوں اور فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کئی مسلح افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک مخفی سرنگ سے بھاری مقدار میں اسلحہ دریافت ہوا ہے۔ادھر دمشق کے مضافات میں بھی شامی فوج نے دھشتگردوں کے دو سرغنوں ’’محمود السرمدانی‘‘ اور ’’عبد اللہ دوارہ‘‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔نیچے دی گئیں تصاویر شام کی جنگ اور لوگوں کی زندگی کی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں۔

حلب کی مسجد اسامہ بن زیاد کے امام جماعت"شیخ اوبیدا" نمازیوں کو حکومت کے خلاف جھاد کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

ویران گلیوں میں فوج کی گشت

شام کے شمالی علاقے میں بم بنانے کے کارخانے

حلب میں واقع ’’جبل‘‘ کا علاقہ

ایک عام شہری کی درد ناک حالت

حلب میں واقع ’’جبل‘‘ نامی علاقہ

ایک فوجی ہوائی اڈے پر پڑے راڈار

تین نوجوان دھشتگرد

دیر الزور میں ایک تفریحی پارک کی حالت

حلب کے علاقے الشعار میں پانی کی پھٹی پائپ سے بہتے پانی سے مزے لیتے ہوئے

دھشتگردوں کی بچوں دی جانے والی ٹریننگ

ادلب میں گندم کے کھیت میں لگی آگ

حمص میں ایک چرچ کی ویرانی

حلب کے مضافات میں ایک دھشتگرد فٹبال گرونڈ کی کمپونڈ وال توڑ کر گزرتا ہوا

شہر دیر الزور کی ویران سڑکوں پر کچھ ڈھونڈتے ہوئے

خالد بن ولید مسجد کی ویرانی

دیر الزور میں فوج کی طرف لاکٹوں کی بارش

دھشتگردوں کے محلے میں نانوائی

ایک دھشتگرد عورت کے ہاتھ میں طیارہ شکن اسلحہ
.................
۲۴۲