ابنا: رپورٹ کے مطابق امریکی تجزیہ نگار مارک ڈینکاف نے کہا ہے کہ یہ بات سمجھنا لازمی ہے کہ جارج ڈبلیو بش کی طرح اوبامہ بھی صیہونی لابی کے غلام اور آلہ کار ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی لابی کا زیادہ تر پیسہ ملک کی ریپبلکن پارٹی کی نسبت ڈیموکریٹک پارٹی کو جارہا ہے۔
ایران کے خلاف صیہونی ور امریکی سازشوں میں اوبامہ کے کردار کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیم مجاہدین خلق کی حمایت اور ایران کے خلاف پابندیوں میں اوبامہ نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوروپی ممالک اور امریکہ میں اسرائیلی لابی ان ممالک پر ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر زور دیتی آرہی ہے۔ جبکہ بین الاقوامی برادری صیہونی حکومت کے جوہری اور دیگر خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے کو نظر انداز کرتی آرہی ہے۔
شام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مارک ڈینکاف نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ اور اسرائیل سعودی عرب، ترکی اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعاون کر کے شامی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کی راہ ہموار کرسکے۔
.......
/169