ابنا: حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کے یوم شہادت کے موقع پر کراچی میں نکالا جانے والا ماتمی جلوس اختتام پذیر ہوگیا ہے، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کے یوم شہادت کے موقع پر ملک کا سب سے بڑا ماتمی جلوس روشنیوں کے شہر کراچی میں نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر میں اختتام پزیر ہوا۔ قبل ازیں نشتر پارک میں مجلس عزا منعقد کی گئی جس سے معروف عالم دین علامہ طالب جوہری نے خطاب کیا۔ مجلس عزا میں ہزاروں سوگواران امام علی (ع) نے شرکت کی، بعد از بوتراب اسکاؤٹس کی قیادت میں جلوس عزا برآمد ہوا جو خراسان روڈ سے ہوتا ہوتا نمائش چورنگی پہنچا، جہاں امام بارگاہ علی رضا (ع) کے سامنے شرکائے جلوس عزا نے نماز ظہرین ادا کی۔ نماز کا انتظام امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ نما کی امامت مولانا حامد حسین مشہدی نے کی۔ بعد از نماز امریکہ اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کئے گئے۔ جلوس عزا میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل، آئی ایس او، جے ایس او، ناصران امام فاؤنڈیشن، شہید فاؤنڈیشن و دیگر اداروں کے اسٹالز بھی لگائے تھے۔ بعدازاں جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوگیا۔
جلوس کے موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، کراچی میں مرکزی جلوس کی گزرگاہ کی جانب آنے والی تمام سڑکوں اور گلیوں کو کنٹرینرز، واٹر ٹینکرز اور مسافر بسوں کے ذریعے بند کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے پولیس، رینجرز بم ڈسپوزل اسکواڈ، سادہ لباس اہلکار، اسکاؤٹس اور حساس اداروں کے اہلکار تعینات تھے جبکہ اہم عمارتوں پر خصوصی اسنائپرز موجود تھے اس کے علاوہ شہر بھر کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ اسکاؤٹس کے ہزاروں رضاکار بھی عزاداروں کی سیکورٹی پر مامور تھے۔
.......
/169