30 جولائی 2013 - 19:30
ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پرحملے میں اس ملک کےسکیورٹی ادارے ملوث

پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملے میں طالبان کے کم از کم ڈھائی سو دہشت گرد جیل سے فرار ہوئے ہیں۔

ابنا: پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملے میں طالبان کے کم از کم ڈھائی سو دہشت گرد جیل سے فرار ہوئے ہیں۔ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق طالبان کا یہ حملہ اس ملک کے بعض سکیورٹی اداروں کے تعاون سے انجام پایا ہے۔ اس حملے کے دوران جیل کی سکیورٹی اور طالبان کے حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں جیل سکیورٹی کے کم از کم پندرہ اہلکار مارے گئے۔اس رپورٹ کے مطابق طالبان ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں قید اپنے دہشت گردوں کو چھڑا کر شام میں بشار اسد کی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ طالبان نے اس سے قبل جن دہشت گردوں کو شام میں سرکاری فوجیوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا تھا انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب طالبان ان کی جگہ اس جیل کے قیدیوں کو بھیجنا چاہتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں پانچ ہزار سے زیادہ قیدی ہیں جن میں سے پانچ سو بیس کا تعلق طالبان اور لشکر جھنگوی سے ہے کہ جو دہشت گردی کے جرم میں پکڑے گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ طالبان کے دہشت گردوں نے اس سے قبل بھی پندرہ اپریل دو ہزار بارہ کو بنوں جیل پر حملہ کر کے تین سو چوراسی خطرناک دہشت گردوں کو چھڑوا لیا تھا جن میں طالبان کا اہم سرغنہ عدنان رشید بھی شامل تھا جس پر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ کرنے کا الزام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲