ابنا: موصول رپورٹ کے مطابق، جزب مخالف کے ایک اہم رہنما کے قتل کے خلاف حمعہ کو عوام سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں کے خلاف پولس نے طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولس کی آنسو گیس کی زد میں آکر 45 سالہ محمد مفلی ہلاک ہوگئے۔واضح رہے کہ تیونس کے حزب مخالف کے آزاد خیال رہنما محمد براہمی کو دارالحکومت تیونس میں ان کے گھر کے باہر جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کا تعلق سیکولر پاپولر فرنٹ پارٹی سے تھا اور وہ ملک میں اسلام پسندوں کی حکومت کے ایک بڑے ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ نئے آئین کی تیاری میں معاونت بھی کر رہے تھے۔ رواں سال یہ اس نوعیت کی دوسری ہلاکت ہے۔دوسری جانب تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جیدو نے محمد براہمی کے قتل میں سلفی گروہ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں چوکری بلعید کے قتل کے لئے جو اسلحہ استعمال کیا گیا تھا وہی اسلحہ محمد براہمی کے قتل میں بھی استعمال ہوا ہے۔ براہمی کے اہلخانہ نے حکمراں جماعت پر ان کے قتل کی ذمہ داری عائد کی ہے۔
.....
/169