ابنا: قال الله تبارك و تعالى: يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون. خدا وند عالم فرماتے ہیں : اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔سوره بقره آيه 183
ماہ مبارک میں بہشت کے دروازے کھلے ہیںقال رسول الله (ص) :إِنَّ ابواب السماء تفتح فى اول ليلة من شهر رمضان ولاتغلق الى آخر ليلة منهرسول خدا [ص] نے فرمایا: آسمان کے دروازے رمضان کی پہلی رات کو کھل جاتے ہیں اور آخری رات تک بند نہیں ہوتے۔- بحار الانوار , ج 96, ص 344, ح 8.
ماہ رمضان میں دوزخ کے دروازے بند ہیںقال رسول الله (ص) : اذا استهلَّ رمضان غلقت أبوابُ النار ۔رسول خدا [ص] نے فرمایا:جب رمضان کا چاند نظر آتا ہے دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔- بحار الانوار , ج 96, ص 348, ح 14.
قرآن کی بہارقال ابوجعفر(ع) :لكلّ شىء ربيع و ربيع القرآن شهر رمضان۔امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:ہر چیز کے لیے ایک بہار ہوا کرتی ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔- كافى , ج 2 , ص 630 , ح 10.
رمضان میں ایک آیت کی تلاوت کا ثوابعن ابى الحسن على بن موسى الرضا(ع]من قرأ فى شهر رمضان آية من كتاب الله كان كمن. ختم القرآن فى غيره من الشهور ۔امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص ماہ رمضان میں قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت کرے گا اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کی ہو۔- بحار الانوار , ج 96, ص 341, ح 5.
روزہ کا افطار خرما، کشمش ، شیرینی اور دودھ یا ہلکے گرم پانی کے ساتھ۔- قال رسول الله صلىاللهعلیهوآله: أفضَلُ ما یَبدَأُ بِهِ الصّائِمُ بِزَبیبٍ أو شَیءٍ حُلوٍ(۱) ؛ بہترین چیز جس سے روزہ دار کو افطار کرنا چاہیے کشمش یا کوئی میٹھی چیز ہے۔- قال الإمام الصادق علیهالسلام: كانَ رَسولُ الله صلىاللهعلیهوآله أوَّلُ ما یُفطِرُ عَلَیهِ فی زَمَنِ الرُّطَبِ الرُّطَبُ، و فی زَمَنِ التَّمرِ التَّمرُ(۲) ؛پہلی چیز جس سے پیغمبر اسلام روزہ افطار کرتے تھے خرما کے زمانے میں خرما اور کھجور کے زمانے میں کھجور تھی۔- قال رسول الله صلىاللهعلیهوآله: مَن أفطَرَ عَلى تَمرٍ حَلالٍ، زیدَ فی صَلاتِهِ أربَعُمِئَةِ صَلاةٍ(۳ ؛ جو شخص حلال خرما سے روزہ افطار کرے گا اس کی نماز کے ثواب میں چار سو نمازوں کا ثواب اضافہ ہو جائے گا۔- قال الإمام الباقر علیهالسلام: كانَ رَسولُ الله صلىاللهعلیهوآله إذا صامَ فَلَم یَجِدِ الحَلواءَ أفطَرَ عَلَى الماءِ(۴ ؛ پیغمبر خدا [ص] روزہ سے ہوتے تھے اور کوئی شیرینی دستیاب نہیں ہوتی تھی تو ہلکے گرم پانی سے روزہ افطار کرتے تھے۔- قال الإمام الصادق علیهالسلام: كانَ رَسولُ الله صلىاللهعلیهوآله إذا أفطَرَ بَدَأَ بِحَلواءَ یُفطِرُ عَلَیها، فَإِن لَم یَجِد فَسُكَّرَةٍ أو تَمَراتٍ، فَإِذا أعوَزَ ذلِكَ كُلُّهُ فَماءٍ فاتِرٍ، و كانَ یَقولُ: یُنَقِّی المَعِدَةَ وَالكَبِدَ، ...(۵ ؛پیغمبر خدا جب روزہ افطار کرتے تھے حلوا [شیرینی] سے آغازکرتے تھے اگر حلوا نہیں ہوتا تھا تو شکر یا خرما سے افطار کرتے تھے۔ اگر ان میں کچھ نہیں دستیاب ہوتا تھا تو گرم پانی سے افطار کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے: گرم پانی معدہ اور پھیپھڑے کو صاف کرتا ہے منہ کی بدبو کو ختم کرتا ہے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے ۔۔۔ بلغم کو ختم کرتا ہے گناہوں کو دھو دیتا ہے معدہ کی گرمی کو آرام دیتا ہے اور سر درد کو ٹھیک کرتا ہے۔- قال الإمام الباقر علیهالسلام: إنَّ عَلِیّا علیهالسلام كانَ یَستَحِبُّ أن یُفطِرَ عَلَى اللَّبَنِ[۶)امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: علی علیہ السلام مستحب سمجھتے تھے کہ روزہ کو دودھ کے ساتھ افطار کریں۔- قال الامام الصادق علیهالسلام: الإِفطارُ عَلَى الماءِ یَغسِلُ الذُّنوبَ مِنَ القَلبِ (۷) ؛ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پانی سے افطار دل سے آلودگیوں کو دھو دیتا ہے۔
افطار میں دیر نہ کرنا- قال رسول الله صلىاللهعلیهوآله: لا یَزالُ النّاسُ بِخَیرٍ ما عَجَّلُوا الفِطرَ؛لوگ جب تک افطار میں جلدی کریں گے خیر اور نیکی میں ہیں۔- قال رسول الله صلىاللهعلیهوآله: عَجِّلُوا الإِفطارَ و أخِّرُوا السَّحورَ . افطار کو جلدی کرو اور سحری کو دیر تک کھاو۔- قال رسول الله صلىاللهعلیهوآله: مِن فِقهِ الرَّجُلِ فی دینِهِ تَعجیلُ فِطرِهِ و تَأخیرُ سَحورِهِ
انسان کی دینی معرفت رکھنے میں سے ایک یہ ہے کہ جلدی افطار کرتا ہے اور دیر تک سحری کھاتا ہے۔
التماس دعا
.......
/169