ابنا: ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي جمعے کے روز ايک وفد کے ہمراہ انقرہ پہونچے اور وہاں ترکي کي وزارت خارجہ کي دفتر ميں ترکي کے وزير خارجہ داؤد اوغلو کے ساتھ تين گھنٹے تک چلنے والي ملاقات ميں خطے خاص طور سے مصر کے حالات پر بات چيت ہوئي-اس ملاقات کے اختتام کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے ايک پريس کانفرنس ميں شام کے حالات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ماہ مبارک رمضان ميں جنگ بندي کي اپيل کي-ايراني وزير خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ گذشتہ برس بھي ايران اور ترکي کے وزرائے خارجہ نے شام ميں جنگ بندي کي اپيل کي تھي، اميد ظاہر کي کہ اس سال اس اپيل کو قبول کياجائيگا اور شام ميں خونريزي نہ صرف ماہ مبارک رمضان بلکہ دائمي طور سے رکے گي-علي اکبر صالحي نے کہا کہ بعض موضوعات سے قطع نظر بہت سے موضوعات ميں تہران اور انقرہ کے درميان اچھي سياسي افہام و تفہيم ہے اور ہم کوشش کر رہے ہيں کہ مسلسل مشاورت کے ذريعے ايک دوسرے پر اپنے نظريات واضح کر سکيں-انہوں نےاميد ظاہر کي کہ مصري دانشور، سياسي رہنماء اور عہديدار ايسا رويہ اپنائيں گے کہ حالات قابو سے باہر نہيں ہونگے اور ماہ مبارک رمضان ميں ہمدلي اور ہمفکري کے ساتھ قومي يکجہتي قائم کريں گے-ترکي کے وزير خارجہ احمد داؤد اوغلو نے بيروني دہشتگردوں کے ترکي کي سرزمين سے شام ميں داخل ہو کر شامي فوج سے لڑنے اور ترکي سے ان دہشتگردوں کو شام ميں اسلحے کي سپلائي سے متعلق پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ترکي نے بيروني جنگجوؤں کو اس طرح کي کوئي اجازت نہيں دي ہے بلکہ وہ شام سے سبھي بيروني جنگجوؤں کے نکلنے کا خواہاں ہے-
.......
/169