12 جولائی 2013 - 19:30

شام میں امریکا کی جنک پسندانہ پالیسیوں پر اندرون و بیرون ملک، مخالفتوں کے باوجود واشنگٹن کی جانب سے اس ملک میں دہشتگردوں کیلئے ہتھیاروں کی سپلائی کا عمل جاری ہے۔

ابنا: العالم کے مطابق شام میں امریکا، اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کی خاطر اس ملک کے نظام اور عوام کے خلاف اپنے کسی بھی قسم کے جرم کے ارتکاب اور سعودی عرب جیسے اپنے علاقائی اتحادی ملکوں کی مدد سے دہشتگردوں کیلئے ہتھیاروں کی فراہمی کی کوشش سے گریز نہیں کر رہا ہے۔ جیساکہ اس وقت شام میں دہشتگردوں کیلئے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ، سعودی عرب بنا ہوا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام میں امریکا کی اس قسم کی مداخلت پر امریکی سیاستدانوں اور اس ملک کے عوام نے بارک اوباما کی پالیسیوں پر کڑي تنقید کی ہے۔ اسکائی نیوز کے مطابق امریکی کانگریس کے رکن کرسٹوفر مورفی نے شام میں دہشتگردوں کیلئے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں اس وقت خونریز خانہ جنگی جاری ہے اور دہشتگردوں کیلئے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی سے، نہ صرف اس خانہ جنگی کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ شام میں اس خونریز خانہ جنگی میں مزید اضافہ بھی ہوگا۔ امریکی کانگریس کے رکن کرسٹوفر مورفی نے شام میں جاری خونریز خانہ جنگی کو امریکا کی قومی سلامتی کیلئے خطرے سے بھی تعبیر کیا۔ امریکی عوام، شام میں اپنے ملک کی مداخلت کے خلاف مظاہرے کرکے وہائٹ ہاؤس کی جارحانہ پالیسیوں کی شدید مذمت اور اس ملک کے داخلی امور میں واشنگٹن کی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہيں جبکہ یورپی ممالک کے عوام اور ان کے پارلیمانی نمائندوں نے بھی اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، شام میں امریکا کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی ہمنوا بننے، اور اس ملک میں دہشتگردوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں برطانوی پارلیمنٹ نے کل اپنے ملک کے وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانوی پارلیمنٹ کو، شام میں مخالفین کو مسّلح کرنے کیلئے برطانیہ کے کسی بھی قسم کے اقدام کو ویٹو کرنے کا حق دیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے الزام لگایا ہے کہ امریکا اور برطانیہ، شام میں حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جھوٹا پروپیگنڈہ کررہے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم بھیجے جانے کا اپنا مقصد حاصل کرسکیں۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے اس سلسلے میں امریکا اور روس کے کردار کو ہدف تنقید قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے کہ شام میں عوام اور فوج کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، خود مسلّح مخالفین نے کیا ہے۔

.....

/169