ابنا: جرمني کے وزير داخلہ ہانس پيٹر فريڈ ريش نے بتايا ہے کہ شام ميں جنگ کے لئے جرمني سے جانے والوں کي تعداد ميں اضافہ ہورہا ہے –جرمن وزير داخلہ کے مطابق يورپي نوجوانوں کو شام بھيجنے سے پہلے القاعدہ کے مراکز ميں اسلحہ چلانے اور بم رکھنے کي ٹريننگ ديجاتي ہے جو پورے يورپ کي سلامتي کے لئے خطرناک ہے –اس سے پہلے بھي يورپ کے انٹيليجنس اداروں کے حکام بتاچکے ہيں کہ جرمني، فرانس، برطانيہ، اسپين، آسٹريا اور سوئيڈن سے ہزاروں نوجوان شام ميں جنگ کے لئے گئے ہيں-
جرمن وزير داخلہ کي طرح يورپ کے انٹيليجنس اداروں کے ذمہ دار عہدیدار بھي اس بات کي تصديق کرچکے ہيں کہ يورپ سے شام کي حکومت کے خلاف جنگ کے لئے بھيجے جانے والے نوجوانوں کو القاعدہ کے مراکز ميں ٹريننگ دي جاتي ہےيورپ کے انٹيليجنس اور سيکورٹي عہديداروں کے مطابق القاعدہ نے شام ميں جنگ کے لئے يورپي نوجوانوں کي بھرتي کے لئے مخصوض مراکز بھي قائم کررکھے ہيں- القاعدہ کے علاوہ امريکي جاسوسي تنظيم سي آئي اے بھي حکومت شام کے مخالفين کو ٹريننگ ديتي ہے اور اس کام ميں اس کو يورپي سيکورٹي ايجنسيوں کا تعاون بھي حاصل ہے - اس وقت يورپ والوں کواس بات کي تشويش لاحق ہے کہ جو يورپي باشندے جنگ کے لئے شام بھيجے گئے ہيں، وہ شام ميں مختلف دہشتگرد گروہوں ميں شامل ہوتے ہيں جہاں انہيں تخريبي اور دہشتگردانہ کاروائيوں کي باضابطہ ٹريننگ دي جاتي ہے-ظاہر ہے کہ يہ افراد واپس آنے کے بعد يورپي ملکوں کا امن وامان بھي درہم برہم کرسکتے ہيں -حقيقت يہ ہے کہ شام کي جنگ کي بابت يورپي ملکوں کي تشويش اس لحاظ سے زيادہ بڑھي ہے کہ القاعدہ کے اراکين يورپ سے نزديکتر ہوگئے ہيںالبتہ يہ صورتحال يورپ کي جانب سے دمشق حکومت کے مخالفين کي مالي اور اسلحہ جاتي امداد کا نتيجہ ہےاسي نقطہ نگاہ سے بشار اسد نے يورپ والوں کو خبردار کيا تھا کہ اگر انہوں نے دمشق کے مخالفين کے لئے اسلحے سپلائي کئے تو يورپ بھي ان دہشتگردوں کي دہشتگردانہ کارروائيوں کا ميدان بنے گا-
.......
/169