3 جولائی 2013 - 19:30
شام میں سلفی دھشتگردوں کے پاتھوں ۱۴ سالہ نوجوان کی ہلاکت

شام کے شہر حلب میں ایک ماں اپنے 14 سالہ بچےمحمد قطاع کے قاتل کی تلاش و جستجو میں ہے جسے سلفی وہابی درندوں نے بہیمانہ اور بےرحمانہ طور پر گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔

ابنا: مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق شام کے شہر حلب میں ایک ماں اپنے 14 سالہ بچےمحمد قطاع کے قاتل کی تلاش و جستجو میں ہے جسے سلفی وہابی درندوں نے بہیمانہ اور بے رحمانہ طور پر گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔ شام میں امریکہ نوازسلفی وہابی دہشت گردوں نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں نام نہاد شریعت نافذ کر رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کس طرح محمد قطاع کی ماں حلب کی سڑکوں پر اجنبیوں کے چہروں میں اپنے بیٹے کے قاتل کو تلاش کرتی پھر رہی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ وہ انہیں پہچان لیں گی کیونکہ ان کے سامنے ہی خوفزدہ بھیڑ کے درمیان اس کے بیٹے کو گولی ماری گئی تھی۔ان کے 14 سالہ بیٹے محمد قطاع پر مبینہ طور پر توہین شریعت کا الزام تھا۔ماں کے مطابق وہ ایک خوش مزاج اور فرمانبردار بچہ تھا اور اسے شعار کے علاقے میں سب لوگ پسند کرتے تھے جہاں ان کے گھر کے لوگ ایک کافی کا ٹھیلہ لگاتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق قاتل القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ النصرہ فرنٹ کو شام میں امریکہ، سعودی عرب، ترکی، قطر اور اسرائیل کی حمایت ہے۔ امریکہ کی قیادت میں لڑنے والے سلفی وہابی درندے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ہولناک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اہلسنت علماء نے سلفی وہابی درندوں ، القاعدہ اور طالبان کو یزیدی اور خوارج گروہ قراردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲