30 جون 2013 - 19:30
آل خلیفہ حکومت کی آمرانہ ماھیت ، انکشافات کا سلسلہ جاری

آل خلیفہ حکومت کی استبدادی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور اس حکومت کے تسلط پسندانہ اقدامات کے بارے میں خبریں اور تشویشیں مسلسل منظر عام پر آرہی ہیں ۔

ابنا: آل خلیفہ حکومت کی استبدادی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور اس حکومت کے تسلط پسندانہ اقدامات کے بارے میں خبریں اور تشویشیں مسلسل منظر عام پر آرہی ہیں ۔ آل خلیفہ کی حکومت بحرین کے عوام کی سرکوبی ، انہیں گرفتار کرنے اور اس ملک کے سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو کال کوٹھریوں میں بند کرکے ، اس ملک کے عوام کے احتجاجات کو دبانے کی کوشش میں ہے ۔بحرین پر حکمفرما آمرانہ طرز حکومت اور اس آمرانہ حکومت کی حمایت میں مغرب کے مزدوروں کے رویوں نے عالمی رائے عامہ کے غم غصہ میں اضافہ کردیا ہے ۔اس شعبے میں بحرین میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ملک کی آمرانہ حکومت کے بارے میں انکشافات کا اعلان کرتے ہوئے ، آل خلیفہ کی حکومت کے حوالے سے مغرب کی جاری حمایتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ اس بارے میں بحرین قومی جمہوری کونسل کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ کی آمرانہ حکومت ہے اور عالمی سطح پر اس کو گوشہ نشین کیا جانا چاہیے ۔فاضل عباس نے بحرین کے دارالحکومت منامنہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک اور یورپی یونین کے نمایندوں کے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ؛ وضاحت کی آل خلیفہ حکومت کی نگرانی کے ساتھ بحرین میں منعقد ہونے والے نین الاقوامی اجلاس ، بحرین کی آمرانہ حکومت کی بلواستہ حمایت کے مترادف ہے ۔ بحرین کی قومی جمہوری کونسل کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ کہ جو علاقائی ملکوں میں ڈیموکریسی کی حمایت کے دعویدار ہیں کو اس قسم کے اجلاسوں میں شرکت سے پرہیز کرنا چاہیے فاضل عباس نے وضاحت کی کہ یورپی یونین نے بحرین کے بحران کے حل کے لئے آل خلیفہ حکومت پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور وہ یہ کام نہیں کرسکتی اور یورپی یونین صرف اپنے جھوٹے دعوؤں کے ساتھ بحرین کے عوام کو دہوکہ دینے کی کوشش ہے ۔فاضل عباس نے امریکہ کو بحرین کا انتظام چلانے والا قرار دیا اور کہا کہ یورپی یونین علاقے میں واشنگٹن کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے درپے ہے ۔بحرین کی قومی جمہوری کونسل کے سیکریٹری جنرل نے تاکید کی کہ امریکہ اور برطانیہ ملت بحرین کے اصلی مطالبات سے پیچھے ہٹانے کے لئے مخالفین کو آمادہ کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن ملت بحرین جب تک میدان میں موجود ہیں اپنے قانونی مطالبات پر اصرار کرتی رہے گی اور ملت بحرین کا سب سے اہم مطالبہ آل خلیفہ حکومت کی برطرفی اور اس ملک میں حقیقی اصلاحات پر عمل درآمد ہے ۔بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے بھی آل خلیفہ حکومت کے جیلوں میں قید بحرینی انقلابی عوام کو منظم شکنجے دیئے جانے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بیروت کے سیاسی تجزیہ نگار انتفاضہ قنبر نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بحرین کا بادشاہ شیخ حمد بن عیسی آل خلیفہ اس ملک میں انجام پانے والی انسانی حقوق کی بدترین کاروائیوں کا ذمہ دار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲