ابنا: آل خلیفہ کی سکورٹی فورسیز نے 48 بحرینیوں کے گھروں پر حملے کرکے 41 بحرینیوں کو گرفتار کرلیا ۔ بحرین کی پولس نے اسی طرح اس ملک کے چودہ علاقوں پر حملے کرکے عوام کے مال و ثروت کو نقصان پہنچایا ہے اور کئی کے اموال پر قبضہ بھی کرلیا ہے ۔ بحرین کی جمعیت وفاق ملی نے بھی عوام کے پر امن مظاہرے پر حملہ کرکے چار مظاہرین کو گرفتار اور تین کو زخمی کئے جانے کی خبر دی ہے ۔ ایسی صورتحال میں جبکہ بحرین میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہےاس ملک کے مخالفین نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ بحرین کے حکام ، رعب و دہشت کی فضا قائم کرکے اپنے حقوق کے لئے لڑنے والوں کو سزائیں دینے کے درپے ہیں۔ آل خلیفہ کی اس پالیسی کے مقابلے میں بحرینی گروہوں نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف آل خلیفہ کی سکورٹی فورسیز کے حملے ، بحرین پر حکمراں نظام کی حقیقی ذہنیت اور ماہیت کو فاش کررہے ہیں ۔ بحرین کی قومی جمہوری تنظیم کے سکریٹری جنرل نے بھی اس ملک کے عوام کے درمیان فتنہ انگیزی کے ذریعے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی حکومت بحرین کی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے قومی مذاکرات کے انعقاد کے بارے ميں آل خلیفہ کے حالیہ اقدام کو نمایشی اقدام قرار دیا ہے ۔ فاضل عباس نے کہاکہ کھوکھلے وعدوں کا زمانہ اب ختم ہوچکا ہے کیوں کہ اس وقت ہم ایسے مرحلے میں ہیں کہ حکومتوں نے یہ اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے کہ طاقت کا اصلی سر چشمہ عوام ہيں۔حالیہ دنوں میں بحرین کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر، پر امن عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بحرین کےعوام نے اس ملک پر حکمراں ظلم و استبداد اور امتیازی سلوک کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سیاسی قیدیوں اور سرگرم کارکنوں اور آل خلیفہ حکومت کی سر نگونی کا مطالبہ کیا ۔یہ درخواست ایسی حالت میں پیش کی جارہی ہے کہ منامہ حکومت ، شیعہ علما کے ساتھ دشمنی برت رہی ہے۔
جمعیت الوفاق نے حال ہی میں بحرین کے ایک ممتاز عالم آیۃ اللہ شیخ حسین نجاتی کو جلا وطن کئے جانےکی خبر دی ہے ۔ یہ خبر ایسی حالت ميں زباں زد خاص و عام ہے کہ اس سے قبل بھی اس ملک کے حکام کی جانب سے بحرین کے 31 شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے پر مبنی رپورٹیں شائع ہوئی تھیں ۔ بحرین کی جمعیت الوفاق اس قسم کے اقدامات کو ظالمانہ اور بین الاقوامی قوانین حتی بحرین کے بنیادی آئین کے بھی منافی قرار دے رہی ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیاہے کہ بحرین کے علما اور شہریوں کے انخلا ، جواس ملک کے شہریوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ، کے اقدام کی عالمی سطح پر تحقیقات کريگی ۔ اس درمیان یہ بھی خبریں ہيں کہ بحرین کے بعض گروہوں منجملہ جمعیت الوفاق نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورخاص طور پر سیاسی قیدیوں کو ایذائیں دیئے جانے سے متعلق کیس کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا ہے ۔ یہ اقدام ایسی صورت میں انجام پارہا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے بریسلز سے بھی مطالبہ کیاہے آج تیس جون بروز اتوار بحرین کے دارالحکومت منامہ ميں خلیج فارس تعاون اور یورپی یونین کے ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی بحرین کے سیاسی قیدیوں کی رہائي کے لئے آل خلیفہ پر دباؤ ڈالیں ۔
بحرین ميں ہر روز آل خلیفہ کے تشدد ميں تیزی آرہی ہے اور اسی طرح اس ملک میں مظاہرین کے گھروں پر حملوں اور گرفتاریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ آل خلیفہ کی سکورٹی فورسیز نے 48 بحرینیوں کے گھروں پر حملے کرکے 41 بحرینیوں کو گرفتار کرلیا ۔ بحرین کی پولس نے اسی طرح اس ملک کے چودہ علاقوں پر حملے کرکے عوام کے مال و ثروت کو نقصان پہنچایا ہے اور کئی کے اموال پر قبضہ بھی کرلیا ہے ۔ بحرین کی جمعیت وفاق ملی نے بھی عوام کے پر امن مظاہرے پر حملہ کرکے چار مظاہرین کو گرفتار اور تین کو زخمی کئے جانے کی خبر دی ہے ۔ ایسی صورتحال میں جبکہ بحرین میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہےاس ملک کے مخالفین نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ بحرین کے حکام ، رعب و دہشت کی فضا قائم کرکے اپنے حقوق کے لئے لڑنے والوں کو سزائیں دینے کے درپے ہیں۔ آل خلیفہ کی اس پالیسی کے مقابلے میں بحرینی گروہوں نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف آل خلیفہ کی سکورٹی فورسیز کے حملے ، بحرین پر حکمراں نظام کی حقیقی ذہنیت اور ماہیت کو فاش کررہے ہیں ۔ بحرین کی قومی جمہوری تنظیم کے سکریٹری جنرل نے بھی اس ملک کے عوام کے درمیان فتنہ انگیزی کے ذریعے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی حکومت بحرین کی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے قومی مذاکرات کے انعقاد کے بارے ميں آل خلیفہ کے حالیہ اقدام کو نمایشی اقدام قرار دیا ہے ۔ فاضل عباس نے کہاکہ کھوکھلے وعدوں کا زمانہ اب ختم ہوچکا ہے کیوں کہ اس وقت ہم ایسے مرحلے میں ہیں کہ حکومتوں نے یہ اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے کہ طاقت کا اصلی سر چشمہ عوام ہيں۔حالیہ دنوں میں بحرین کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر، پر امن عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بحرین کےعوام نے اس ملک پر حکمراں ظلم و استبداد اور امتیازی سلوک کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سیاسی قیدیوں اور سرگرم کارکنوں اور آل خلیفہ حکومت کی سر نگونی کا مطالبہ کیا ۔یہ درخواست ایسی حالت میں پیش کی جارہی ہے کہ منامہ حکومت ، شیعہ علما کے ساتھ دشمنی برت رہی ہے۔
جمعیت الوفاق نے حال ہی میں بحرین کے ایک ممتاز عالم آیۃ اللہ شیخ حسین نجاتی کو جلا وطن کئے جانےکی خبر دی ہے ۔ یہ خبر ایسی حالت ميں زباں زد خاص و عام ہے کہ اس سے قبل بھی اس ملک کے حکام کی جانب سے بحرین کے 31 شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے پر مبنی رپورٹیں شائع ہوئی تھیں ۔ بحرین کی جمعیت الوفاق اس قسم کے اقدامات کو ظالمانہ اور بین الاقوامی قوانین حتی بحرین کے بنیادی آئین کے بھی منافی قرار دے رہی ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیاہے کہ بحرین کے علما اور شہریوں کے انخلا ، جواس ملک کے شہریوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ، کے اقدام کی عالمی سطح پر تحقیقات کريگی ۔ اس درمیان یہ بھی خبریں ہيں کہ بحرین کے بعض گروہوں منجملہ جمعیت الوفاق نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورخاص طور پر سیاسی قیدیوں کو ایذائیں دیئے جانے سے متعلق کیس کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا ہے ۔ یہ اقدام ایسی صورت میں انجام پارہا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے بریسلز سے بھی مطالبہ کیاہے آج تیس جون بروز اتوار بحرین کے دارالحکومت منامہ ميں خلیج فارس تعاون اور یورپی یونین کے ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی بحرین کے سیاسی قیدیوں کی رہائي کے لئے آل خلیفہ پر دباؤ ڈالیں ۔
.......
/169