24 جون 2013 - 19:30
مصری وزير اعظم: شیعیان مصرپرحملے کی تحقیقات کا حکم

مصر کے وزير اعظم ہشام قنديل نے ملک کے شيعہ مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند تکفيريوں کے حملے کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے-

ابنا: وزيراعظم ہشام قنديل نے اپنے ايک بيان ميں صوبہ جيزہ کے علاقے ابومسلم ميں رونما ہونے والا واقعہ ايک گھناونا جرم سے جسکي جتني بھي مذمت کي جائے کم ہے- انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام آسماني مذاہب کي تعليمات کے سراسر منافي ہيں- انہوں نے ايومسلم کے شيعہ مسلمانوں کے خلاف مسلح حملے کي فوري تحقيقات کا بھي حکم ديا ہے-پريس ٹي وي کے مطابق مصري پوليس نے پندرہ افراد کو گرفتار کيا ہے-دوسري جانب مصر کي شيعہ تحريک کے رہنما محمد غنيم نے اپنے ايک بيان ميں عالمي برادري سے اپيل کي ہے کہ وہ مصر ميں شيعہ مذہب  کے پيروکاروں کے نسلي تصفيہ کي روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کرے-انہوں نے کہا کہ مصر کي شيعہ برادري نے گزشتہ سال ستمبر ميں جامعہ الازھر کو ايک نيک نيتي کے نام سے ايک تجويز بھي تھي جس ميں اتحاد کے قيام کا منصوبہ پيش کيا تھا  ليکن اس پر کوئي توجہ نہيں دي گئي-مصر کے شيعہ مسلمانوں کے ترجمان بہاالدين انور نے سلفي عناصر کے ہاتھوں چار شيعہ مسلمانوں کے قتل کي مذمت کرتے ہوئے اسے  ميانمار ميں انتہا پسند بدھسٹوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل جيسا ہي ايک اقدام قرار  ديا-  مصر کي  سوشلسٹ يوتھ ايسوسي ايشن نے بھي ملک کے شيعہ مسلمانوں کے قتل کي مذمت کرتے ہوئے اخوان المسلمين اور اس کے حاميوں کو اس کا ذمہ دار قرار ديا ہے-مصر کي تمرد پارٹي کے رہنما محمود بدر نے بھي شيعہ مسلمانوں کے قاتلوں کو پسماندہ سوچ کا حامل اور وحشي قرار ديا ہے-واضح رہے کہ بعض انتہا پسند سلفيوں نے اتوار کي رات  صوبہ الجيزہ کے نواحي علاقے ابومسلم ميں حملہ کرکے چار شيعہ مسلمانوں کو شہيد کرديا  تھا-شہيد ہونے والوں ميں مصر کي شيعہ برداري کے سرکردہ رہنما حسن شحاتہ بھي شامل ہيں _......./169