19 جون 2013 - 19:30
شام کا بحران جاری اور جي ايٹ سربراہي اجلاس بے نتیجہ اختتام پذیر

شمالي آئر لينڈ ميں جي ايٹ کا سربراہي اجلاس ايسے عالم ميں اپنے اختتام کو پہنچا کہ شام کے بارے ميں اتفاق رائے حاصل نہ ہوسکا -

شمالي آئر لينڈ ميں جي ايٹ کا سربراہي اجلاس ايسے عالم ميں اپنے اختتام کو پہنچا کہ شام کے بارے ميں اتفاق رائے حاصل نہ ہوسکا - شمالي آئرلينڈ ميں جي ايٹ کا دو روزہ سربراہي اجلاس منگل کي شام اپنے اختتام کو پہنچا -اجلاس سے پہلے اعلان کيا گيا تھا کہ شام کا بحران اجلاس کا خاص ايجنڈا ہے-اجلاس ميں شام کے مخالف اور دوست  دونوں طرح کے ممالک کے سربراہ موجود تھے- جي ايٹ کے آٹھ ملکوں ميں سے امريکا، برطانيہ، فرانس شام کے سخت ترين مخالف ہيں  اور روس شام کے دوستوں ميں شمار ہوتا ہے - اس کے علاوہ اٹلي، جرمني، کنيڈا اور چاپان اگرچہ شام کے دوست نہيں ہيں ليکن شام کے تعلق سے مغرب کے موقف کے سو فيصد حامي بھي نہيں ہيں اور ان ميں سے بعض شام ميں  دہشتگرد گروہوں کے لئے اسلحہ بھيجے جانے کے خلاف ہيں –جي ايٹ ميں اس وقت سب سے زيادہ اختلافي موضوع شام  کا ہے - امريکا اور اس کے اتحادي بشار اسد کي حکومت گرانے پر زور ديتے ہيں جبکہ روس اس کے سخت خلاف ہے –روس  کے علاوہ دنيا کے کئي ديگر ممالک جيسے ايران اور چين بھي شام کي موجودہ حکومت کو قانوني حکومت اور صدر بشار اسد کو شام کا قانوني سربراہ سمجھتے ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ شام ميں بشار اسد کے  حکومت ميں  باقي رہنے  يا ہٹنے کا فيصلہ کرنے کا اختيار صرف شام کے عوام کو ہے بيروني طاقتوں کو نہيں –جي ايٹ کے اجلاس ميں مغرب نے کوشش کي تھي کہ اختتامي بيان ميں صدر بشار اسد کے اقتدار سے ہٹنے کي بات شامل کي جائے ليکن روس نے اس کي سخت مخالفت کي اور صدر پوتن نے اعلان کيا کہ وہ کسي بھي ايسے بيان پر دستخط نہيں کريں گے جس ميں بشار اسد کي حکومت کو غير قانوني طور پر ہٹانے کي بات کي گئ  ہو-روس کے صدر کي مخالفت کي وجہ سے امريکا اور اس کے اتحادي اختتامي بيان سے اس شق کو نکالنے پر مجبور ہوگئے -سرانجام جي ايٹ کے اختتامي بيان ميں  شام کے تعلق سے ،   جنيوا دو اجلاس پر زور ديا گيا اور اس بات کا اعلان کيا گيا کہ جي ايٹ کے سربراہوں نے شام ميں انتہا پسندي اور دہشتگردي کي مخالفت اور اسبات پر اتفاق کيا ہے کہ کيميائي اسلحے کے استعمال کي چاہے وہ جس کي طرف سے بھي ہو، مذمت کي جائے –اس کے علاوہ جي ايٹ کے اجلاس ميں شام کي مستقبل کي حکومت کي حمايت اور اس  کے لئے ڈيڑھ ارب ڈالر کي انسان دوستانہ امداد پر بھي اتفاق کيا گيا –  حقيقت يہ ہے کہ امريکا اور اس کے اتحادي  کافي عرصے سے شام ميں بشار اسد کے مخالفين کے لئے اسلحے سپلائي کررہے ہيں جس کے بارے ميں روس کے صدر نے برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کے ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس ميں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ مغرب ان عناصر کي حمايت کررہا ہے جو انسانوں کو مارتے ہيں اور ان کا گوشت کھاتے ہيں –ماسکو نے اسي کے ساتھ شام  مغرب کے  اس الزام کو صراحت کے ساتھ مسترد کرديا  ہے کہ دمشق حکومت نے مخالفين کے خلاف کيميائي اسلحے استعمال کئے ہيں - ماسکو کا کہنا ہے کہ يہ الزام بالکل اسي طرح کا سناريوتيار کرنے کي کوشش ہے جو دو ہزار تين ميں  عراق پر  چڑھائي کے لئے تيار کيا گيا تھا اور بعد ميں  سارے الزامات غلط ثابت ہوئے –روس نے بارہا خبردار کيا ہے کہ وہ نہ صرف شام بلکہ مشرق وسطي کے کسي بھي ملک ميں عراق يا ليبيا کا سناريو دھرانے کي اجازت نہيں دے گا -امريکا نے عام تباہي کے ہتھياروں کي موجودگي کا غلط دعوي کرکے عراق پر قبضہ کيا تھا اور عام شہريوں کي زندگي کي حفاظت کے دعوے کے ساتھ ليبيا ميں نوفلائي زون قائم کيا  اور پھر فوجي مداخلت  کے ذريعے قذافي حکومت کو ختم کيا –بہرحال جي ايٹ کے حاليہ  سربراہي اجلاس سے يہ بات پوري طرح واضح ہوگئ کہ شام کے بارے ميں روس اور مغرب کے اختلافات اتنے شديد ہيں کہ سربراہي اجلاس بھي انہيں کم کرنے ميں غير موثر ہے - ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲