4 جون 2013 - 19:30
امام موسی کاظم علیہ السلام کاقیدخانہ میں امتحان اورعلم غیب کامظاہرہ

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ہارون رشیدنے بصرہ میں امام موسی بن جعفر علیہ السلام کوایک سال قیدرکھنے کے بعدعیسی ابن جعفروالی بصرہ کو خط لکھاکہ موسی بن جعفر(امام موسی کاظم)کوقتل کرکے بادشاہ کوان کے وجودسے سکون دلادیے تو والی بصرہ نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کے بعدہارون رشیدکولکھاکہ اے بادشاہ امام موسی کاظم علیہ السلام میں میں نے اس ایک سال کے اندرکوئی برائی نہیں دیکھی یہ شب وروزنمازروزہ میں مصروف ومشغول رہتے ہیں۔

ابنا: علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ، ہارون رشیدکے قیدخانہ کی سختیاں برداشت فرمارہے تھے امام ابوحنیفہ کے شاگرد ابویوسف اورمحمدبن حسن ایک شب قیدخانہ میں اس لیے گئے کہ آپ کے بحرعلم کی تھاہ معلوم کریں اوردیکھیں کہ آپ علم کے کتنے پانی میں ہیں وہاں پہنچ کران لوگوں نے سلام کیا،امام علیہ السلام نے جواب سلام عنایت فرمایا،ابھی یہ حضرات کچھ پوچھنے نہ پائے تھے کہ ایک ملازم ڈیوٹی ختم کرکے گھرجاتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض پردازہواکہ میں کل واپس آؤں گااگرکچھ منگاناہوتومجھ سے فرمادیجیے میں لیتاآؤں گا آپ نے ارشادفرمایا: مجھے کسی چیزکی ضرورت نہیں، جب وہ چلاگیاتوآپ نے ابویوسف اور اس کے ساتھی کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا کہ یہ بیچارہ مجھ سے کہتاہے کہ میں اس سے اپنی حاجت بیان کروں تاکہ یہ کل اس کی تکمیل وتعمیل کردے لیکن اسے خبرنہیں، کہ یہ آج رات کووفات پاجائے گا،ان حضرات نے جب یہ سناتوسوال وجواب کئے بغیرہی واپس چلے آئے اورآپس میں کہنے لگے کہ ہم ان سے حلال وحرام ،واجب وسنت کے متعلق سوالات کرناچاہتےتھے ”فاخذیتکلم معناعلم الغیب“ مگریہ توہم سے علم غیب کی باتیں کررہے تھے اس کے بعدان دونوں حضرات نے اس ملازم کے حالات کاپتہ لگایا،تومعلوم ہواکہ وہ ناگہانی طورپررات ہی میں وفات کرگیایہ معلوم کرکے یہ حضرات سخت متعجب ہوئے(نورالابصار ص ۱۴۶) ۔علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعدیہ حضرات پھرامام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہوئے کہ ہمیں معلوم تھاکہ آپ کوصرف علم حلال وحرام ہی میں مہارت حاصل ہے لیکن قیدخانہ کے ملازم نے واضح کردیا،کہ آپ علم المنایااورعلم غیب بھی جانتے ہیں آپ نے ارشادفرمایا کہ یہ علم ہمارے لیے مخصوص ہے اس کی تعلیم حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کودی تھی ،اوران سے یہ علم ہم تک پہنچاہے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ہارون رشیدنے بصرہ میں امام موسی بن جعفر علیہ السلام کوایک سال قیدرکھنے کے بعدعیسی ابن جعفروالی بصرہ کو خط لکھاکہ موسی بن جعفر(امام موسی کاظم)کوقتل کرکے بادشاہ کوان کے وجودسے سکون دلادیے تو والی بصرہ نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کے بعدہارون رشیدکولکھاکہ اے بادشاہ امام موسی کاظم علیہ السلام میں میں نے اس ایک سال کے اندرکوئی برائی نہیں دیکھی یہ شب وروزنمازروزہ میں مصروف ومشغول رہتے ہیں عوام اورحکومت کے لیے دعائے خیرکیاکرتے ہیں اورملک کی فلاح وبہبودکے خواہشمندہیں بھلامجھ سے کیونکرہوسکتاہے کہ میں انہیں قتل کرکے اپنی عاقبت بگاڑوں۔”اے بادشاہ ! میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اوراپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہاہوں اورسخت حرج محسوس کرتاہوں، لہذاتومجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کربلکہ مجھے حکم دیدے کہ میں انہیں قیدمشقت سے رہاکردوں اس خط کے پانے کے بعدہارون رشیدنے اخر میں یہ کام سندی بن شاہک کے حوالہ کیا اوراسی سے آپ کوزہردلواکرشہیدکرادیازہرکھانے کے بعدآپ تین روزتک تڑپتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگئے (نورالابصار ص ۱۳۷) ۔

.......

/169