30 مئی 2013 - 19:30
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے قیدیوں کی ایذارسانی کی پردہ پوشی کیلئے ان سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کو مشروط ملاقات کی اجازت دی ہے۔

ابنا: سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے قیدیوں کی ایذارسانی کی پردہ پوشی کیلئے ان سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کو مشروط ملاقات کی اجازت دی ہے۔ اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ  سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جارہا ہے اور قیدیوں کی ایذارسانی کا عمل جاری ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم نے ان قیدیوں سے ملنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انسانی حقوق کے سرگرم عمل کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی آل سعود حکومت کی جیلوں میں اس وقت تیس ہزار سیاسی قیدی موجود ہیں جنھیں بغیر کسی قانونی کاروائی کے جیلوں میں بند کیا گيا ہے جہاں وہ سخت حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے بھی سعودی حکام کو خبردار کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان قیدیوں کی رہائی  کیلئے سعودی عرب کی آل سعود حکومت پر دباؤ ڈالے اس لئے کہ سعودی عرب کی آل سعود حکومت کا یہ عمل، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دریں اثنا شیعیان جہان کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے بھی ایک بیان میں سعودی جیلوں میں شیعہ مسلمانوں کی ایذارسانی کی مذمت کی ہے۔ اس تنظیم نے اس بات کی دستاویزات پیش کی ہیں کہ سعودی جیلوں میں شیعہ مسلمانوں پر انتہائی مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور وہ وہاں اپنے معمولی ترین حقوق سے بھی محروم ہیں۔ سعودی عرب کے علمائے دین نے بھی ایک بیان میں سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سیاسی قیدیوں کو رہا کردیں جو دس برس سے بغیر کسی قانونی کاروائی کے جیل میں بند ہیں۔ سعودی عرب کے انسانی حقوق کے سرگرم عمل کارکنوں نے بھی ایک بیان میں سعودی جیلوں میں قیدیوں کی ایذارسانی کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اگر اس سلسلے میں کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا تو وہ ظلم کے خلاف ہر طرح کے طریقے پر عمل کریں گے۔ دوسری جانب سعودی شہریوں نے دارالحکومت ریاض سمیت اپنے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور سعودی عرب کی آل سعود حکومت کے غیر انسانی جرائم کی مذمت کرتے  ہوئے اپنے ملک کے سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی شہریوں نے اپنے احتجاجی مظاہروں میں آل سعود حکومت کی پالیسیوں کی بھی مذمت کی۔ ان مظاہرین نے اپنے ملک میں ان تمام مسائل کا ذمہ دار سعودی عرب کے وزیر اعلی محمد بن نائف کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان مظاہرین نے اعلان کیا کہ  سعودی عرب تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی تک ان کے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲