اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر کی ایک نیوز ایجنسی ’’ الموجز‘‘ نے ایران کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر کی گفتگو اور تہران میں گزشتہ سال لگی ایک نمائش کی نشر شدہ تصاویر سے سوء استفادہ کرتے ہوئے امام زمانہ (ع) کا انکار کیا ہے اور امام زمانہ(ع) سے متعلق شیعہ عقائد کا مزاق اڑایا ہے۔اس نیوز ایجنسی نے بروزجمعہ ۲۴ مئی کو سپاہ پاسداران اسلامی کے کمانڈر ’’محمد علی جعفری‘‘ کی اس نمائش کا دورہ کرتے ہوئے نشر شدہ تصاویر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر ’’محمد حسن نامی‘‘ کی ایک گفتگو سے سوء استفادہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپاہ پاسدارن کے کمانڈر نے امام زمانہ(ع) کے ساتھ تصویریں بنوائی ہیں۔محمد علی جعفری کی اس نمائش میں جو گزشتہ سال ماہ رجب میں لگی تھی بنی ہوئی تصویروں کو فارس نیوز ایجنسی نے انٹرنٹ پر جاری کیا تھا جن میں وہ نمائش اجرا کرنے والے ایک شخص کے پاس کھڑے ہیں جس نے عربی لباس پہن رکھا ہے اور چہرے پر نقاب ڈال رکھی ہے۔ اس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ فارس نیوز ایجنسی نے کل یہ تصویریں جاری کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ تصویر مہدی موعود کی ہیں کہ جس کے پاس ایران کے ایک کمانڈر کھڑے ہیں‘‘۔!!

گزشتہ سال ماہ رجب میں لگی ’’ تنہا ترین امیر‘‘ کے عنوان سے اس نمائش میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی زندگی کی منظر کشی کی گئی تھی اور سپاہ پاسداران کے کمانڈر محمد علی جعفری نے ۹۰ منٹ اس نمائشگاہ میں بہت قریب سے تمام مناظر کشی کا نظارہ کیا تھا اور مختلف مناظر میں ان کی تصویری نٹ پر نشر ہوئی تھی ان تصاویر میں سے ایک تصویر یہ ہے جس میں وہ اس شخص کے پاس کھڑے ہیں جو اس نمائش میں چہرے پر نقاب ڈال کر علی علیہ السلام کا مجازی کردار نبھا رہا ہے۔

مصر کی الموجز نیوز ایجنسی نے اپنی شیعہ مخالف رپورٹ کے اندر ایران کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر کی طرف سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مہدی موعود کی تصویر اور آواز کو انٹرنت پر نشر کریں گے۔

ابنا کی رپورٹ کے مطابق الموجز نیوز ایجنسی نے اس رپورٹ کو انحرافی طریقے سے بیان کرنے کے بعد اس سلسلے میں مصر کے بعض علماء کے بیانات نقل کر کے یہ کوشش کی ہے کہ امام زمانہ(ع) کے زندہ ہونے کے متعلق شیعوں کے عقائد کو غلط قرار دیا جائے۔ مثال کے طور پر ’’سپرئم کونسل برائے اسلامی امور‘‘ کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد الشحات الجندی نے اس سلسلے میں کہا: ’’تصویر ’’قول مرسل‘‘ ہے اوروہ دلیل نہیں ہے اور اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح کے دعوے وہ لوگ کرتے ہیں جو فکری تعادل نہیں رکھتے۔ جس زمانے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اس میں لوگ ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں کرتے‘‘۔انہوں نے صرف اسی بات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علمائے اسلام کے اجماع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: وہ حدیثیں جن کے ذریعے مہدی موعود کو ثابت کیا جاتا ہے وہ خبر واحد ہیں۔ اورعلمائے حدیث کے معیار پر پوری نہیں اترتی‘‘۔ڈاکٹر الجندی کا یہ بیان اس صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جب اہلسنت کے کتابوں میں ۶۰۰ حدیثیں مہدی موعود(ع) کے سلسلے میں موجود نہ ہوں۔ حتی وہابیوں کے معروف مفتی ’’شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز‘‘ نے عقیدہ مہدویت کے سلسلے میں فتویٰ دیتے ہوئے کہا تھا: ’’ جو شخص عقیدہ مہدویت کا انکار کرے یا وہ عقیدے کے اعتبار سے منحرف ہے یا شریعت میں گمراہ ہے‘‘۔ انہوں نے ایک مقالہ «عقیدة اهل السنّة و الاثر في المهدي المنتظر» کے اندر حضرت مہدی موعود(ع) کے متعلق پائی جانی والی احادیث کے تواتر کا اعتراف کیا تھا۔ایک وہابی تنظیم «ائتلاف دفاع از صحابه و آل» کے موسس شیخ ناصر رضوان نے اس تصویر اور وزیر محترم کی گفتگو کے بارے میں کہا:’’ شیعوں کی طرف سے اس طرح کی باتوں کو منتشر کرنے کا اصلی سبب یہ ہے کہ اب ان کے یہاں امام زمانہ پر عقیدہ کمزور ہوتا جا رہا ہے اسی وجہ سے وہ اس طرح کی خبریں منتشر کرتے ہیں‘‘۔قابل ذکر ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر نے اپنے علمی تخصص سے ہٹ کر گفتگو کرتے ہوئے اس مسئلہ کی وضاحت کرنا چاہی کہ ’’جب امام زمانہ(ع) کا ظہور ہو گا تو پوری دنیا میں ان کی آواز بھی سنائی دے گی اور ان کی تصویر بھی دکھائی دے گی‘‘، کہا تھا: ’’امام زمانہ علیہ السلام کی آواز اور تصویر کو جدید ٹکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا میں نشر کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے اس اعجازی مسئلہ کو موجودہ دور کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ذریعے توجیہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے ان کی یہ بات شیعہ دشمنوں کے نزدیک شیعہ عقائد کا مزاق اڑانے کا ذریعہ بن گئی۔الموجز نیوز ایجنسی کا لینک:http://www.elmogaz.com/node/90270فارس نیوز ایجنسی کا لینک جہاں سے یہ تصویر لی گئی ہے:http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13910525001177۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲