19 مئی 2013 - 19:30
تحریک انصاف کی رکن زہرا شاہد حسین کے بیمانہ قتل کی پر مذمت کرتے ہیں

وحدت ہاؤس کراچی میں جنرل باڈی اجلاس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مل کر شہر قائد سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کو اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں کامیابی ملی، الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہا، موروثی سیاست اور وڈیرہ شاہی نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے، کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف شعبہ خواتین کی رکن زہرا شاہد حسین کے بیمانہ قتل کی پر مذمت کرتے ہیں، واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے، ورثاء سے اظہار تعزیت اور کارکنان سے اظہار ہمدری کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے وحدت ہاؤس کراچی میں جنرل باڈی اجلاس سے خطاب میں کیا۔

اجلاس میں علامہ مختار امامی، علامہ صادق رضا تقوی، علامہ حیدر عباس عابدی، عبداللہ مطہری، اصغر عباس زیدی، مبشر حسن، عقیل عباس، آصف صفوی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا رویہ تمام جماعتوں کے ساتھ مساوی ہونا چاہیے، این اے 250 پر دوبارہ پولنگ کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پورے ملک میں جہاں جہاں انتخابات میں دھاندلی کی شکایات موصول ہوئی ہیں، وہاں دوبارہ الیکشن کروایا جائے، تاکہ دھاندلیوں کی اس روایات کا خاتمہ کیا جاسکے۔

علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، پہلی باری تیری دوسری باری میری نے ملک کو بحرانوں کا شکار کیا، عوامی مینڈیٹ اور ٹھپہ مینڈیٹ میں عوام خود تمیز رکھتی ہے، عوام ایسی جماعتوں کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔ مجلس وحدت مسلمین عوامی جماعت ہے اور اس میں شامل تمام افراد کا نظریہ وطن سے دہشت گردی، لاقانونیت، مذہبی منافرت، جہالت کا خاتمہ اور مادر وطن کی خدمت کرنا ہے، کراچی میں 11 مئی انتخابات کے دوران این اے 253 کے امیدوار اصغر عباس زیدی کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو گرفتار کیا جائے، الیکشن کمیشن واقعے کا فوری نوٹس لے۔

اُن کا کہنا تھا گذشتہ پانچ برسوں میں شہر قائد میں ہزاروں کی تعداد میں مظلوم عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، اب تمام محب وطن سیاسی جماعتوں کو مل کر شہر قائد سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے، جس طرح سکیورٹی انتظامات این اے 250 کے حلقہ میں پولنگ کے دوران کئے گئے ہیں اگر یہ مستقل بنیادوں پر شہر کے حساس علاقوں میں کئے جائیں اور دہشت گردوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو عملی بنایا جائے تو عوام کو شہر میں عدم تحفظ کی کیفیت سے نکالا جاسکتا ہے۔

.....

/169