18 مئی 2013 - 19:30
شام کے معاملہ میں ترکی امریکہ کے ساتھ/ عوام اردوگان پر برہم

ترکی کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ مظاہرے اس بات کا عملی مظہر ہیں کہ ترک عوام نہ صرف اردوگان کی امریکہ نوازی پر برہم ہیں بلکہ شام کے حوالے سے حکومت کی موجودہ پالیسیوں پربھی کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ ان کا ملک شام کے معاملے میں سفارتی اور فوجی آپشنز سمیت ہر قسم کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ شام میں استعمال ہونے والے کیمیائی ہتھیار ہماری قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ ہمارے اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک کے لئے بھی خطرناک ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ شام میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور صرف یہی بات ہی بین الاقوامی برادری کے لیے کافی ہے کہ وہ اس مسئلے میں مداخلت کرے۔ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد امریکی صدر کی شام میں مداخلت کرنے کے حوالے سے دو ٹوک پریس کانفرنس منظر نامے کو واضح کرتی ہے۔ امریکہ شام میں براہِ راست فوجی کارروائی کا سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ ترکی اس کا ہم نوا ہے اور دیگر عرب ممالک بھی قراردادوں کا نیا سلسلہ ان اقدامات کا نقطہء آغاز ہے، جو خطے میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے پیشِ نظر سامراجی مفادات کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ ترکی کی حکومت تو امریکی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے لیکن ترک عوام میں اردوگان حکومت کے خلاف نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ترکی کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ مظاہرے اس بات کا عملی مظہر ہیں کہ ترک عوام نہ صرف اردوگان کی امریکہ نوازی پر برہم ہیں بلکہ شام کے حوالے سے حکومت کی موجودہ پالیسیوں پربھی کڑی تنقید کر رہے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں معروف تجزیہ نگار عمر ریاض عباسی  کیا کہتے ہیںترکی نے جب سے امریکی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ سیاست اپنا رکھی ہے شدید قسم کے خطرات سے روبرو ہو گیا ہے۔ شام کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت نے حتی ترکی کے اپنے عوام کے نزدیک اس کا چہرہ خراب کر دیا ہے۔ کیونکہ ترکی کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ انکی حکومت اسرائیل کی مخالفت کرتے کرتے یکدم شام کے خلاف اور اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں صف آرا ہو گئی اور ایسا موقف اپنا لیا جس کا سو فیصد فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے۔ اس مسئلے نے اردگان حکومت کی عزت کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں حکمران پارٹی کے ووٹ گرنے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ ترکی کی جانب سے القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور انہیں فوجی ٹریننگ مہیا کرنا ہے۔ ترکی کے عوام رجب طیب اردگان اور آزادی و عدالت پارٹی سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اسلام کا حقیقی اور صحیح چہرہ متعارف کروائے نہ یہ کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کو فوجی تربیت دے کر شام کی سرزمین کی جانب روانہ کر دے۔ ترکی کی حکومت اس اقدام کے باعث نہ فقط اپنے عوام کی نظر میں گر گئی ہے بلکہ علاقائی سطح پر بھی اسکا امیج بری طرح متاثر ہوا ہے۔ شام کو داخلی و خارجی طور پر کمزور کرنے اور خاص طور پہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو نقطہء کمال تک لے جانے کے لئے وہ ساری طاقتیں یک آواز ہیں، جو اسرائیل کو خطے میں مضبوط دیکھنے کی خواہشمند ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲