11 مئی 2013 - 08:38
حق واپسی دستاویز پر ۵۰ علمائے اسلام کے دستخط

عالم اسلام کے پچیس ملکوں سے تعلق رکھنے والے 50 علماء نے غزہ میں گزشتہ روز'حق واپسی دستاویز' پر دستخط کئے۔

ابنا: عالم اسلام کے پچیس ملکوں سے تعلق رکھنے والے 50 علماء نے غزہ میں گزشتہ روز'حق واپسی دستاویز' پر دستخط کئے۔ دستاویز میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کسی بھی قسم کی افراط و تفریط کو یکسر مسترد کیا گیا ہے۔

اس دستاویز پر دستخط مغربی غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے زیر اہتمام الکتیبہ اسکوائر میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسہ عام کے موقع پر کیا گیا۔ دستاویز پر سب سے پہلے عالم اسلام کے نامور اسکالر علامہ یوسف القرضاوی نے دستخط کئے جس کے بعد بیسیوں علماء اور الکتیبہ اسکوائر میں موجود ہزاروں فلسطینیوں نے 'واپسی کا حلف' اٹھایا۔

جلسہ عام میں حاضرین کے دلوں کو گرمانے کے لئے فلسطینی وزیرا عظم اسماعیل ہنیہ، ان کی حکومت کے وزرا اور قانون ساز اسمبلی کے ارکان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر فلسطین میں قطری سفیر محمد العمادی، حماس کے رہنما اور دیگر فلسطینی جماعتوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ جلسہ عام میں پڑھے جانے والے شعری قصیدوں اور نظموں سے حاضرین محفل کے جذبات کو ابھارا جاتا رہا۔

اپنے خطاب میں علامہ یوسف القرضاوی نے کہا کہ غزہ نے اپنی موجودگی کا ثبوت دے دیا ہے۔ اس سرزمین نے خود کو عرب اسلامی مملکت ثابت کر دیا ہے۔ غزہ نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی۔ یہ شہر بہ بانگ دہل 'ناں' کہنا جانتا ہے۔ غزہ نے ہمیشہ اسرائیلی مطالبات کو دیوار پر دے مارا ہے۔ اس کے غیور باسی صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا۔

علامہ یوسف القرضاوی نے مزید کہا کہ فلسطین کی سرزمین کے اصل وارث فلسطینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیلی جیلوں میں قید اس کے فرزندوں کو آزادی ملنی چاہئے۔ ہمیں اپنے اسیران کی رہائی کی جدوجہد تیز کرنا ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲