ابنا: گوانتانامو جيل کے حکام نے بتايا ہے کہ مزيد پچيس قيدي بھوک ہڑتاليوں ميں شامل ہوگئے جس کے بعد بھوک ہرتال کرنے والے قيديوں کي تعداد ستتر ہوگئي ہے-
اس رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے سترہ قيديوں کي حالت تشويشناک ہوگئي ہے اور انہيں اسپتال منتقل کرنا پڑا ہے-قيديوں کے ساتھ بدسلوکي اور ايذارساني کي وجہ سے بہت سے قيديوں نے بھوک ہڑتال کر رکھي ہے-گوانتانامو جيل ميں بند قيديوں کي بحراني صورتحال کے خلاف امريکہ سميت دنيا کے مختلف ملکوں ميں مظاہرے بھي کئے جارہے ہيں-امريکي وزارت جنگ پينٹاگون نے اعتراف کيا ہے کہ امريکي فوجيوں نے گوانتانامو جيل ميں بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے قيديوں پر حملہ کيا ہے اور انہيں تشدد کا نشانہ بنايا گيا ہے-
گوانتانامو جيل کے قيديوں کي ايک وکيل سينڈي پانوچو نے کہا ہے کہ جيل کي چھٹي بيرک سے ملنے والي خبروں کے مطابق اس بيرک کو سب سے زياد حملے کا نشانہ بنايا گيا ہے اور اس کا ايک حصہ منہدم بھي ہوگيا ہے-امريکہ ميں شہري حقوق کے لئے کام کرنے والي نتظيموں کے وفاق نے بھي اپنے ايک بيان ميں گواتنانامو جيل ميں جاري انساني حقوق کي خلاف ورزيوں پر کڑي نکتہ چيني کي ہے،
اقوام متحدہ کےانساني حقوق کميشن کي سربراہ ناوي پلئ نے بھي گوانتانامو جيل کے قيديوں کي بھوک ہڑتال پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت امريکہ نے مذکورہ جيل کو بندکرنے کے وعدے پر عمل نہيں کيا ہے جو بہت ہي مايوس کن ہے،
انٹر نيٹ پر گوانتانامو جيل کي بعض تصويريں جاري ہوئي ہيں جن ميں دکھايا گيا ہے کہ قيديوں کے منہ پر کالے رنگ کا ايک تھيلا چڑھا ديا گيا جس کا مطلب بيروني دينا سے ان کا حسي رابطہ منقطع کرنا ہے- يہ کام انکي استقامت کو توڑنے کي غرض سے کيا جاتا ہے-گوانتامو جيل کے قيديوں کے بدسلوکي اور ايذارساني کے بارے ميں اب تک متعدد رپورٹيں سامنے آچکي ہيں - عالمي ريڈ کراس سوسائٹي کے سربراہ پيٹر ماورر نے امريکہ کے صدر باراک اوباما سے اپيل کي ہے کہ وہ گوانتامو جيل ميں غير قانوي حراست کا سلسلہ ختم کرائيں-
عالمي ريڈ کراس نے گوانتامو جيل کي انتظاميہ کي جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے قيديوں پر کئے جانے والے تشدد کي بھي سخت مذمت کي ہے اور قيديوں کے مسائل کو مناسب طريقے حل کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے-
ادھر امريکہ کے کئي شہروں ميں حاليہ دنوں کے دوران گوانتامو جيل کي صورتحال کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہيں- يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہوئے جب امريکي صدر نے گوانتانامو جيل بند کرنے کے وعدے پر عمل نہيں کيا ہے-
گوانتانامو جيل امريکي فوج کے کنٹرول ميں ہے اور ايک عشرے سے زيادہ عرصے سے اس جيل ميں امريکہ کي جانب سے انساني حقوق کي کھلي خلاف ورزيوں کا ارتکاب کيا جارہا ہے-
گوانتانامو جيل سن دو ہزار ايک کے آخر ميں قائم کي گئي تھي اور اس کا مقصد دہشتگردي کے الزام ميں گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد کو تفتيش کے لئے يہاں بند کرنا اور ان سے اعتراف کے لئے تشدد کا نشانہ بنانا تھا-
.......
/169