17 اپریل 2013 - 19:30
پرویز مشرف کو ان کے محافظین نے فراری دی: عدالت

پرویز مشرف نے اسلام آباد کمرہ عدالت میں اپنی گرفتاری کا حکم سنتے کی فرار کرنے کی کوشش کی جس میں ان کے محافظین نے بھی مدد کی۔ عدالت سے فرار کے بعد وہ اپنے گھر میں ہی نظر بند ہیں۔

ابنا: دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کے عدالت سے فرار کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔ رجسٹرار نےعدالت کو بتایا ہے کہ پرویز مشرف کے فرار میں محافظوں نے مدد کی ہے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے فرار میں غفلت کے مرتکب افسروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو کل طلب کر لیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا ہے کہ ایسے موقع پر سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کیوں نہ کئے گئے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ ججز نظر بندی کیس میں ضمانت خارج ہونے کے بعد پرویز مشرف عدالت سے فرار ہو گئے۔ سابق صدر اس وقت چک شہزاد میں اپنے گھر پر موجود ہیں جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف اپنے روایتی انداز میں سخت سیکیورٹی کے درمیان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ کمرہ عدالت میں جونہی ان کی ضمانت خارج ہونے اور گرفتاری کا حکم ملا۔ پولیس والوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ کسی نے سابق صدر کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس دوران پرویز مشرف کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار آگے بڑھے اور انہیں کمرہ عدالت سے باہر لے کر نکل گئے۔ سابق صدر کو سیاہ رنگ کی پراڈو میں بٹھایا گیا اور وہ تیزی سے اسلام آباد ہوئی کورٹ سے نکل کر اپنے گھر چک شہزاد چلے گئے۔ سابق صدر ججز کی نظر بندی کے حوالے سے کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ حاضر ہوئے تھے تاہم عدالت کی جانب سے ضمانت خارج ہونے اور گرفتاری کے حکم کے بعد انہیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔ ادھر انتظامیہ نے سابق صدر کو چک شہزاد میں ان کےفارم ہاؤس پر نظر بند کرنے پر غور شروع کر دیا۔ دوسری طرف عدالتی وقت ختم ہونے پر سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست لینے سے انکار کر دیا ہے۔ سابق صدرکے وکلاء نے پرویز مشرف کی ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا لیکن عدالتی وقت ختم ہونے پر سپریم کورٹ نے درخواست لینےسے انکار کر دیا۔ اب درخواست کل دوبارہ دائر کی جائے گی۔ دوسری جانب سابق صدر کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد انتظامیہ کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں پرویز مشرف کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو جیل میں رکھنے سے سیکیورٹی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں ان کی رہائش گاہ پر ہی نظر بند کر دیا جائے۔ واضع رہے سابق آرمی چیف پرویز مشرف پاکستان میں واپس آتے ہی مصائب میں گھر گئے اور نوبت ان کی گرفتاری کےحکم تک پہنچ گئی۔ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت کی قیادت کرنے والے جنرل پرویز مشرف 2008ء کے انتخابات کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت میں بھی کچھ عرصہ عہدہ صدارت پر موجود رہے۔ سیاسی قوتوں کی مخالفت پر پرویز مشرف کو صدارت کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس مرحلے پر حکومت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور وہ ملک سے باہر چلے گئے۔ پرویز مشرف نے کئی بار وطن واپسی کا ارادہ ظاہر کیا لیکن پھر اپنا پروگرام ملتوی کرتے رہے۔ بلاآخر گزشتہ ماہ انہوں نے حیران کن طور پر وطن واپسی کے اعلان کو سچ کر دکھایا۔ پاکستان آتے ہی پرویز مشرف کو مصائب اور مشکلات نے گھیر لیا۔ انہوں نے الیکشن لڑنے کیلئے چار نشستوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تو ایک ایک کر کے تمام حلقوں سے ان کے کاغذات مسترد ہو گئے۔ کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر انہیں اس ناگوار صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑا جب انتہائی سخت سکیورٹی کے باوجود ایک وکیل نے انہیں جوتا دے مارا۔ وطن واپسی پر انہیں عدالتوں میں پیشییوں کا سامنا ہی رہا۔ رالپنڈی ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر ان کے خلاف نعرے گونجتے رہے اور حملے کی کوشش بھی کی گئی۔ ججز نظر بندی کیس میں ان کی ضمانت خارج ہونے کے بعد گرفتاری کا حکم ان پر مشکلات کا نقطہ عروج ہے۔ وہ عدالت سے فرار تو ہوگئے لیکن ابھی اس معاملے کا ڈراپ سین ہونا باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲