17 اپریل 2013 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے گروپ ایٹ کے وزرائے خارجہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

ابنا: جناب رامین مہمان پرست نے آج ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں گروپ ایٹ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے لندن میں ایک بیان میں اظہار تشویش کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن اور آئی اے ای اے کے زیر نگرانی انجام پارہی ہیں اس لئے اس بارے میں تشویش کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کا ، آلماتی 2 مذاکرات میں تعمیری اور فعال کردار تھا اوراسی بنیاد پر اس نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں کہا کہ مذاکرات کے اختتام پر یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون کے بیان کے مطابق اب گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ ایران کی تجاویز کا جائزہ لیں اور اپنے نظریات کا اعلان کریں ۔ جناب مہمان پرست نے کہا کہ اس بار ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کرنے کے بارے میں گروپ پانچ جمع ایک کی نیک نیتی یا بد نیتی ، بین الاقوامی حقوق  کی بنیاد پر سب پر واضح ہوجائیگی ۔ انہوں نے ایران کے میزائل پروگرام  سے متعلق ہر قسم کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ایران کی سرزمین کے دفاع کی حکمت عملی کے تناظر میں ہے اور کسی کے لئے بھی خطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک مذھبی حکومت کے طور پر انسانی حقوق کے سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے معاہدوں پر کاربند  ہے اور سیاسی مقاصد کے لئے انسانی حقوق سے استفادے کو انسانی حقوق کے ہدف کے منافی سمجھتا ہے -

.....

/169