30 مارچ 2013 - 19:30

ایک رپورٹ کے مطابق، دسمبر دو ہزار بارہ کے وسط میں، امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیوٹاؤن کے سینڈی ہک نامی اسکول میں فائرنگ کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں تشدد کے ایسے واقعات جن میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے، مرنے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرگئی ہے -

ابنا: دسمبر دو ہزار بارہ کے وسط میں،  امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیوٹاؤن کے سینڈی ہک نامی اسکول میں فائرنگ کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں تشدد کے ایسے واقعات جن میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے، مرنے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرگئی ہے -یاد رہے کہ سینڈی ہک اسکول میں   فائرنگ کے وحشیانہ واقعے پر پورے امریکا میں ہلچل مچ گئی تھی اور تقریبا سبھی امریکی شہروں میں عوام نے وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے، اسلحے پر کنٹرول کا مطالبہ کیا تھا۔  امریکا  کے سلیٹ ڈاٹ کام اور گن ڈیتھس، کی مشترکہ سروے رپورٹ کے مطابق امریکا میں گزشتہ چار مہینے میں آتشیں اسلحے کے استعمال کے نتیجے میں تین ہزار ترپن افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اس سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ امریکا میں تشدد کے  ایسے واقعات میں جن میں آتشیں اسلحے استعمال ہوئے ہیں، مرنے والوں کے صحیح اعدادو شمار حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ امریکا میں ساٹھ فیصد اموات خودکشی کا نتیجہ ہوتی ہیں جو عام طور پر آتشیں اسلحے کے ذریعے انجام پاتی ہیں، لیکن ان کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے جاتے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب  امریکا کے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی خبروں میں  تشدد کی وارداتوں کی رپورٹیں شامل نہ ہوتی ہوں۔چودہ دسمبر دو ہزار بارہ کو ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیوٹاؤن کے سنیڈی ہک نامی  پرائمری اسکول میں ایڈمز لانزا نامی ایک نوجوان نےوحشیانہ انداز میں فائرنگ کرکے بیس بچوں سمیت چھبیس افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مارکے  خودکشی کرلی تھی۔اسی طرح ایک اور نوجوان جیمز ہومز نے ریاست کلراڈو کے ایک سنیما ہال میں اندھا دھند فائرنگ کرکے بارہ افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کردیا تھا ۔امریکا میں تشدد میں اس حد تک اضافہ ہوگیا ہے کہ ٹیچروں نے حملے کی صورت میں اپنے دفاع کی ٹریننگ لینا شروع کردی ہے اور بہت سے اساتذہ اسلحہ لیکے کلاس روم میں جانے لگے ہیں ۔امریکا میں اسلحے پر کنٹرول کے لئے عوام کے وسیع مظاہروں کے باوجود اسلحے کے کارخانوں کے مالکین اور اسلحہ فروشوں کی لابی کے دباؤ کی وجہ سے حکومت اور کانگرس اسلحے پر کنٹرول کا قانون پاس نہیں کرسکی ہے ۔       عوامی مطالبات میں شدت آنے کے بعد صدر باراک اوباما نے اسلحے پر کنٹرول کے لئے ایک بل کانگرس میں پیش کیا لیکن ایوان نمائندگان نے اب تک اس پر غورکرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی ہے   جبکہ اسلحے کی آزادی کے مخالفین، اسلحے پر کنٹرول کے لئے  کانگرس میں صدرباراک اوباما کے پیش کردہ بل کو بھی تشہیراتی اور نمائشی اقدام سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر باراک اوباما واقعی اسلحے پر کنٹرول چاہتے تواس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ اقدام کرسکتے تھے اور متبادل راستے اختیار کرکے یہ بل پاس کروا سکتے تھے لیکن وہ بھی اسلحہ فروشوں کی لابی کے دباؤ میں ہیں۔امریکا میں سالانہ پینتالیس لاکھ آتشیں اسلحے فروخت ہوتے ہیں۔   ...../169