ابنا: شام کي وزارت خارجہ نے سلامتي کونسل کے چئرمين اور اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل کے نام الگ الگ خط ارسال کرکے شام ميں مسلح گروہوں اور اس کے حاميوں کو ہي دمشق کي مسجد الايمان ميں ہونےوالے دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار قرارديا ہے - اس حملے ميں انچاس نمازي اور شام کے بزرگ عالم اہل سنت علامہ شيخ محمد سعيد البوطي جاں بحق ہوگئے تھے شام کي وزارت خارجہ نے اپنے اس خط ميں کہا کہ شام کي حکومت تکفيري اور انتہا پسندگروہوں اور دہشت گردوں کے مقابلے ميں شامي عوام کي حفاظت ہر حال ميں کرتي رہے گي۔ اس خط ميں اس بات پر بھي زور ديا گيا ہے کہ شامي حکومت گمراہ کن نظريات کے حامل گروہوں سے ملک کو پاک کرنے کا تہيہ کئے ہوئے ہے جنھوں نے ملک ميں بھائي چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگي کو سب و تاژ کرنے کي کوشش کي ہے۔شام کي وزارت خارجہ کے خط ميں کہا گيا ہے کہ ملک ميں دہشت گردوں کے مجرمانہ اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہيں کہ يہ گروہ کسي بھي طرح کي اخلاقي اور انساني اقدار کے پابند نہيں ہيں اور نہ ہی ان کے حامي انساني اقدار پر يقين رکھتے ہيں۔معاذ الخطیب کا اعترافدوسري طرف شامي حکومت کے مخالف گروہوں کے اتحاد کے سربراہ معاذ الخطيب نے اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ ملک ميں دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ موجود ہيں۔ معاذ الخطيب نے ان دہشت گرد گروہوں کے لئے بعض ملکوں کي وسيع حمايت کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ شام ميں دہشت گرد گروہ موجود ہيں۔ معاذ الخطيب نے ساتھ ہي استنبول ميں مخالف گروہوں کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے جس ميں شام کے نام نہاد عبوري وزير اعظم کا انتخاب کيا گيا ہے شام کے سلسلے ميں ترکي کي حکومت کي توسيع پسندانہ پاليسيوں پر تنقيد کي۔معاذ الخطيب نے جو استنبول اجلاس کے سخت مخالف ہيں کہاکہ شام ميں ترکي کي کسي بھي طرح کي فوجي مداخلت سے علاقے کي ديگر طاقتوں کي مداخلت کا راستہ ہموار کردے گي اور پورے مشرق وسطي کي سلامتي خطرے ميں پڑ جائے گي واضح رہے کہ امريکا برطانيہ اسرائيل ترکي اور سعودي عرب و قطر کے حمايت يافتہ دہشت گردوں نے گذشتہ دوبرس سے شام ميں بدامني پھيلا رکھي ہے ان کي کوشش ہے کہ جيسے بھي شام کے صدر بشار اسد کي حکومت کا تختہ الٹ ديں مگر انہيں اب تک اپنے مقصد ميں کاميابي حاصل نہيں ہوسکي ہے۔شامی فوج کی کاروائياس درميان شامي فوج نے ايک آپريشن کرکے دہشت گردوں کے متعدد سرغنوں کو گرفتار کرليا ہے جن ميں سعودي عرب کا بھي ايک باشندہ شامل ہے - شامي فوج نے ملک کے شمال ميں واقع رقہ صوبے ميں دہشت گردوں کے خفيہ ٹھکانوں پر حملہ کرکے دسيوں دہشت گردوں کو ہلاک کرديا جن ميں ميں ان کے متعدد سرغنے بھي شامل ہيں - دوسري جانب شامي فوج نے ديرالزور کے علاقے ميں جبہہ النصرہ نامي دہشت گرد گروہ سے وابستہ ايک ٹھکانے پر حملہ کرکے بڑي تعداد ميں دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے۔ ايک اور خبر يہ ہے کہ شامي فوج نے ريف دمشق ميں زملکا کے علاقے ميں ايسے کار بموں کو ناکارہ بناديا ہے جنھيں دہشت گردوں نے تخريبي کاروائيوں کے لئے پارک کي تھيں۔ حلب شہر کے علاقوں الکاستيلو ، السفيرہ ، اور خان العسل ميں بھي شامي فوج نے بڑا آپريشن کرکے دسيوں دہشت گردوں کو ہلاک اور زخمي کرديا ہے۔عرب لیگ کے کردار پر نکتہ چینیاقوام متحدہ ميں شام کے نمائندے بشار الجعفري نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ عرب ليگ بجائے اس کے کہ اپنے ممبر ملک کے مفادات کا تحفظ اور دفاع کرتي اس نے شامي عوام کے خلاف ہي سازش کرڈالي۔اور ابھي بھي وہ اپني سازشوں ميں مصروف ہے۔ بشار الجعفري نے شام کے بحران کے حل کے لئے اقوام متحدہ ميں قائم شام کے نمائندہ دفتر کي کوششوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ عرب ليگ کے سکريٹري جنرل اور قطر کے امير کا اصل مقصد شام ميں فوجي مداخلت کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ شام کے نمائندے نے کہا کہ شامي عوام کا مطالبہ قانوني اور جائز ہے ۔انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے ابتدائي چھ مہينے ميں شامي حکومت نے اصلاحات کا اعلان کرکے عوام کے مطالبات کو پورا کرنے کي کوشش کي تھي ليکن مغربي ملکوں اور ان کے عرب اتحاديوں نے سازشيں تيارکرکے شامي عوام کے مطالبات کو کرائے کے دہشت گردوں کي مسلح کاروائيوں ميں تبديل کرديا - بشار الجعفري نے حلب ميں دہشت گردوں کے ذريعے کيميائي ہتھياروں کے استعمال کي مذمت کرتے ہوئے بان کي مون سے کہا کہ وہ اس سلسلے ميں آزادانہ تحقيقات کرائيں۔......./169
23 مارچ 2013 - 19:30
News ID: 402672
شام کي وزارت خارجہ نے دمشق ميں مسجد الايمان ميں دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار اس ملک ميں سرگرم دہشت گردوں اور ان کے مغربي اور عرب ملکوں کے حاميوکو قرارديا ہےدوسري طرف شامي حکومت کے مخالف گروہوں نے اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ شام ميں دہشت گرد پوري طرح سرگرم عمل ہيں۔