ابنا: پاکستانی فوج کے جنرل ہڑ کواٹر میں منگل کے روز فوجی افسران کے مابین ایک میٹنگ ہوئی جس میں دھشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔اس میٹنگ میں واضح طور پر کہا گیا کہ ملک کو دہشت گردی اور اس کے خطرات سے باہر نکالنے کے لیے پاک فوج دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی جامع حکمتِ عملی جاری رکھے گی۔
تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش مسترد ہونے کے ایک ہی دن بعد ہونے والے فوجی قیادت کے اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستانی حکومت اور فوج کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے طالبان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی طالبان کی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی حالیہ پیشکش تین فروری کو گئی تھی جس کو گزشتہ روز طالبان نے مسترد کردیا تھا۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ملک میں امن کی خاطر پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور جمیعت علمائے اسلام-ف کے مولانا فضل الرحمان ان مذاکرات میں ضامن بنے تھے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس بھی منعقد کی گئی تھی جو بے نتیجہ رہی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فروری میں کئی مرتبہ کوشش کی کہ ملکی سیکیورٹی پر دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، لیکن چیف آف جوائنٹ کمیٹی کے سربراہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔
ایک فوجی عہدیدار نے واضح کیا کہ جامع حکمت عملی کے تحت تمام عناصر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام تر کوششوں کو جاری رکھیں گے۔
پاکستانی فوج جو بظاہر روایتی طور پر سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے کرتی ہے، لیکن طالبان کی جانب سے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں اسے ہمیشہ شبہہ رہا ہے۔
سیکیورٹی سے متعلق ہونے والی میٹنگ میں کہا گیا کہ طالبان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کے باوجود بھی ملک میں دہشت گرد حملے جاری ہیں اور اس کی تازہ مثال پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ ہے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242
تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش مسترد ہونے کے ایک ہی دن بعد ہونے والے فوجی قیادت کے اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستانی حکومت اور فوج کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے طالبان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی طالبان کی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی حالیہ پیشکش تین فروری کو گئی تھی جس کو گزشتہ روز طالبان نے مسترد کردیا تھا۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ملک میں امن کی خاطر پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور جمیعت علمائے اسلام-ف کے مولانا فضل الرحمان ان مذاکرات میں ضامن بنے تھے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس بھی منعقد کی گئی تھی جو بے نتیجہ رہی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے فروری میں کئی مرتبہ کوشش کی کہ ملکی سیکیورٹی پر دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، لیکن چیف آف جوائنٹ کمیٹی کے سربراہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔
ایک فوجی عہدیدار نے واضح کیا کہ جامع حکمت عملی کے تحت تمام عناصر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام تر کوششوں کو جاری رکھیں گے۔
پاکستانی فوج جو بظاہر روایتی طور پر سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے کرتی ہے، لیکن طالبان کی جانب سے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں اسے ہمیشہ شبہہ رہا ہے۔
سیکیورٹی سے متعلق ہونے والی میٹنگ میں کہا گیا کہ طالبان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کے باوجود بھی ملک میں دہشت گرد حملے جاری ہیں اور اس کی تازہ مثال پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ ہے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242