16 مارچ 2013 - 20:30

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا:حکومت پانچ سال میں دودھ اور شہد کی نہر نہیں بہاسکی لیکن جمہوریت کو اتنا مضبوط ضرور بنادیا ہے کہ اب کوئی شب خون نہیں مار سکتا۔

ابنا: قومی اسمبلی کے پانچ سال پورے ہونے پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ہفتہ کی رات دس بجے قوم سے الوداعی خطاب کیا۔ انہوں نے کامیابیوں کے دعوؤں کے ساتھ اعتراف کیا کہ حکومت پانچ سال میں دودھ اور شہد کی نہر نہیں بہاسکی لیکن جمہوریت کو اتنا مضبوط ضرور بنادیا ہے کہ اب کوئی شب خون نہیں مارسکتا۔
 
قوم سے الوداعی خطاب میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عوام کی خدمت کے بلندو بانگ دعوؤں کے ساتھ حکومتی کمزوریوں کا بھی اعتراف کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے اتفاق رائے کی سیاست کو فروغ دیا۔ جمہوریت کو مضبوط بنایا، طاقت کے ذریعے اقتدارمیں آنے کے راستے بند کیے۔
راجہ صاحب نے یہ نوید بھی سنائی کہ چاروں وزرائے اعلیٰ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
 
قوم سے اپنے الوداعی خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی مدت مکمل کی جس پر قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ان جیسا کارکن وزیراعظم بنااور قوم کو جمہوریت کےتسلسل کی نوید دے رہا ہے، اس پر مسرت موقع پر وہ تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمش کی طویل تاریخ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا نہ کوئی سیاسی جماعت توڑنے کی کوشش کی گئی۔ ملک کے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جھوٹے کیس میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا، ضیا الحق کی آمریت کی تاریک رات کے بعد جمہوریت کا اجالا بکھیرنے والی بے نظیر بھٹو کو عوام نے اپنے ووٹ سے وزیر اعظم بنایا لیکن انہیں بھی شہید کردیا گیا۔ محمد خان نواز شریف کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا، حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا غیر معمولی اور تاریخی واقعہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس جمہوری عمل کو یہاں تک لانے میں کئی دشوار گزار مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ صدر آصف علی زرداری کی مفاہمت کی پالیسی نے پاکستان کی سیاست کو بلندی سے ہم کنار کیا۔ صدر مملکت نے بے نظیر بھٹو کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ملک میں باہمی اتفاق رائے کی بنیاد ڈالی، اسی پالیسی کے تحت ملک کی پہلی خاتون اسپیکر اور وزیر اعظم  کو متفقہ طور پر بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست آئین،پارلیمنٹ،ملکی قوانین کےدائرےمیں رہ کرآگے بڑھ سکتی ہے اور حکومت نے جمہوریت کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے تمام توانائیاں صرف کیں۔

راجا پرویز اشرف نے مزید کہا کہ صوبائی خود مختاری کا دیرینہ خواب پورا کر کے دکھایا، ساتواں این ایف سی ایوارڈ منظور کیا، 18ویں ترمیم سے آئین کو اصل شکل میں واپس لائے، انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری جمہوری شخص ہیں، صدر نے فیصلہ کیا کہ یہ اختیارات عوام کو سونپ دیے جائیں، صدر نے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے۔ صدر کے اس اقدام سے ایک گھناؤنا باب اب ہمیشہ کے لیے بندہو گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2008 میں پاکستان گندم اور چینی درآمد کرتا تھا لیکن آج حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک گندم اور چینی میں خود کفیل ہے، بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے طویل اور قلیل مدتی منصوبوں کے ذریعے 4ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کی، انہیں یقین ہے کہ حکومت کے اقدامات سے اس شعبے میں بہت جلد بہتری آئے گی۔ 1997 سے 2007 تک بجلی کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہ ہوسکا جس کی وجہ سے طلب اور رسد کا فرق بڑھ گیا، حکومت نے اس سلسلے میں کئی ٹھوس اقدامات کئے ہیں جس کے نتائج جلد ہی سامنے آئیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی جمہوری اقدار اور روایات کی سربلندی کے لئے کبھی قربانی سے دریغ نہیں کیا، ہم سب ایک بار پھر عوام کے پاس جارہے ہیں انہیں خوشی ہے کہ اس بار وہ لوگ بھی انتخابات میں شامل ہو رہے ہیں جو گزشتہ انتخابات میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ چاروں وزرائے اعلیٰ نے ملک میں ایک ہی روز انتخابات کے انعقاد پر اتفاق کیا جس سے ان کا جمہوریت پر ایمان مزید پختہ ہوگیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ انتخابات کے دیگر مراحل بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوجائیں گے، وہ تمام سیاسی جماعتوں، قومی اداروں ، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انتخابی عمل کو آزاد ، پر سکون اور خوشگوار ماحول میں مکمل کریں ، سیاسی جماعتوں کے قاعدین اور کارکنان اپنے عمل سے دنیا پر یہ ثابت کردیں کہ ہم ایک باشعور ، پر امن، ذمہ دار اور جمہوری قوم ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/ 242