ابنا: امریکی خبر رساں ایجنسی کےمطابق انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی کے لئے اقوام متحدہ کی خصوصی ٹیم نے بین امرسن کی قیادت میں ڈرون حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستان کا 3روزہ دورہ کیا ، جس کے دوران پاکستانی حکام نے انہیں بتایا کہ ڈرون حملوں میں اب تک 400 بے گناہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔اقوام متحدہ کی ٹیم کو تجزیہ نگار امتیاز گل نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئے نقصان اور ہلاکتوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی، انہوں نے اقوام متحدہ کی ٹيم کو ایسے 25 کیسز کا حوالہ دیا جن میں کئی بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔بین ایمرسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت ان کے سامنے واضح کرچکی ہے کہ ڈرون حملے اس کی رضا مندی سے نہیں ہو رہے۔پاکستان میں ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا کہ ان حملوں میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ حملے پاکستانی حکومت کی مرضی سے کئے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستانی حکومت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا کوکوئی اجازت نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پچھلے 9 برسوں میں371 مرتبہ امریکی جاسوس طیاروں نے ڈرون حملے کیے جن میں 4ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
14 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 400208
اقوام متحدہ کی امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم نے ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔