9 مارچ 2013 - 20:30

دورانِ نماز پشاور میں اہل سنت بریلوی بھائیوں کو مسجد میں نشانہ بنانے کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور جامع مسجد چشتیہ پشاور میں بیگناہ اہل سنت نمازی بھائیوں کا قتل شیعہ برادری کا قتل تصور کرتے ہیں۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ سانحہ عباس ٹاﺅن دہشتگردی اور سفاکیت کا ہولناک واقعہ ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع اور حکمرانوں کی بےحسی پر پاکستان کے 17 کروڑ محب وطن شہری نوحہ کناں ہیں۔ سانحہ عباس ٹاﺅن پر سیاسی اداکاروں کی فنکاریاں شہداء کے خون کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اب تمام محب وطن پاکستانی کو دہشتگردی و انتہاپسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔ پشاور میں بریلوی اہل سنت برادران کی مسجد میں اسلام دشمن قوتوں کے حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ایک غیر مسلم کی جانب سے توہین رسالت کے جرم کی سزا دیگر غیر مسلموں کو دینا غیر شرعی و غیر اخلاقی فعل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وحدت سیکرٹریٹ کراچی میں جاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  علامہ امین شہیدی نے مزید کہا کہ سانحہ عباس ٹاﺅن پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے نعرے تو بہت بلند ہوئے، لیکن عملی اقدامات اب تک کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ صوبائی حکومت جلد متاثرین کی بحالی کیلئے کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا روزِ اول سے یہی موقف ہے کہ کراچی سمیت پاکستان بھر میں ہونے والی دہشت گردی فرقہ واریت نہیں بلکہ اسلام و ملک دشمن قوتوں کی مذموم سازش ہے۔ اس پاک سرزمین پر جہاں کہیں بھی ملت تشیع کا خون بہایا گیا، وہاں کہیں بھی ان کی قومیت یا لسانیت کو مدِنظر نہیں رکھا گیا، بلکہ ان کے عقیدے کی بنیاد پر انہیں تہہ تیغ کیا گیا۔ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ اس ملک میں ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ شیعہ سنی تو کجا غیر مسلم بھی اس وطن میں دہشتگردوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دورانِ نماز پشاور میں اہل سنت بریلوی بھائیوں کو مسجد میں نشانہ بنانے کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور جامع مسجد چشتیہ پشاور میں بیگناہ اہل سنت نمازی بھائیوں کا قتل شیعہ برادری کا قتل تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں توہین ِ رسالت (ص) کے مبینہ الزام میں ایک غیر مسلم شاتم رسول ﴿ص﴾ کی آڑ میں سینکڑوں بے گناہ غیر مسلم شہریوں کی املاک کو جلا کر خاکستر کر دینا سراسر غیر شرعی و غیر اخلاقی فعل ہے۔ دین مبین اسلام اور تعلیمات محمدی ﴿ص﴾ ہمیں اس طرح کے غیر شرعی و غیر اخلاقی فعل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242