4 مارچ 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایرانی جزائرکے بارے میں خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ابنا: ایران کی وزرات خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے ایرانی جزائر تنب کوچک، تنب بزرگ اور ابوموسی کے بارے میں خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان کو بے بنیاد قرار دےکر اسے ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سرزمین کے بارے میں بے بنیاد دعووں سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔خلیج فارس تعاون کونسل نے اتوار 3مارچ کو ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین کے مذکورہ ایرانی جزائر کے مجوزہ دورے کے خلاف بیان جاری کرکے ایک بار پھر ان جزائر کے بارے میں بےبنیاد دعووں کو دہرایا۔ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ "مجلس شورائے اسلامی " کے اراکین نے بھی ایرانی جزائرکے بارے میں خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان "حسین نقوی حسینی " نے ایرانی حکام کی جانب سے ایرانی جزائر کے دورے کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے بیان دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے اس سلسلے میں بیان دینا انکے دائرۂ اختیار سے باہر ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے ایک اور رکن منصور حقیقت پور نے بھی کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین آئندہ ہفتہ ایرانی جزائر کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں جزائر، ایران کے اٹوٹ حصے ہیں اور پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کا ایک وفد ،خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان کو خاطر میں نہ لاکر آئندہ ہفتہ مذکورہ جزائر کا دورہ کرےگا۔