پاکستان علماء کونسل کے سربراہ طاہر اشرفی نے کہا تھا کہ افانستان میں خود کش حملے جائز ہیں۔ افغانستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جانان موسی زی نے طاہر اشرفی کےبیان کو مضحکہ خیز قراردیا اور کہا کہ یہ بیان سیاسی اھداف کا حامل ہے۔ ادھر افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر رنگين داد فر سپنتا نے افغاں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان علماء کونسل کے بیان اور پاکستانی فوج کی خفیہ تنظیم آئي ایس آئي کی سازشوں کےخلاف متحد ہوجائيں۔ افغانستان میں اعلی امن کونسل نے بھی ایک بیان جاری کرکے حکومت کابل سے کہا ہےکہ وہ فتنوں کا سد باب کرکے امن و ثبات کی راہ میں قدم اٹھائے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل نے پاکستان پرالزام لگایا کہ وہ کابل کے تعلق سے دوغلی پالیسیوں پر عمل کررہی ہے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا ہےکہ پاکستانی فوج کی خفیہ تنظیم آئي ایس آئي کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔ اس کونسل کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل کا سربراہ طاہر اشرفی آئي ایس آئي کا آلہ کار ہے اور عالم دین کے بھیس میں بے گناہ عوام کے قتل عام کو جائز قراردے رہا ہے۔ افغانستان کی وزارت حج واوقاف نے بھی ایک بیان میں طاہر اشرفی کے فتوے کو بے بنیاد قراردیا اور کہا کہ یہ فتوی دینی دلیلوں پر مشتمل نہيں ہے۔ اس بیان میں کہا گيا ہےکہ طاہر اشرفی نے آئي ایس آئي کے مفادات کے مطابق یہ فتوی دیا ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے سلفی سربراہ کے اس بیان سے افغانستان کے عوامی اور سرکاری حلقوں پاکستان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے۔
3 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 396797
پاکستان علماء کونسل کے سلفی سربراہ کے بیانات پر افغان حکومت نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔