ابنا: پاکستان کے ایک کثیر الا شاعت اخبار کے لئے لکھے گئے ایک مضمون میں نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ تحریک ِ طالبان پاکستان بنیادی طور پر پاکستان، اس کے شہریوں، اس کے آئینی، قانونی اور سیاسی نظام، اس کی حکومت اور ریاستی ایجنسیوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے جبکہ لشکر ِ جھنگوی کا ہدف صرف اہل ِ تشیع ہیں۔ترجیحات میں اس تفاوت کے باوجود تحریک ِ طالبان پاکستان اور لشکر ِ جھنگوی میں اشتراک ِ عمل پایا جاتا ہے اور وہ کارروائیوں کے لئے ایک دوسرے کو ”افرادی اور تکنیکی“ معاونت فراہم کرتے رہتے ہیں جبکہ اس دوران مشرق ِ وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والے القاعدہ کے ”ماہرین“ کی فنی خدمات بھی ان کو حاصل رہتی ہیں۔نجم سیٹھی کے بقول جو لوگ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانے کے حق میں ان کو غلط فہمی ہے کہ پاکستانی طالبان کی اندرون ملک کارروائیاں دراصل امریکی ڈرون حملوں کا ردِعمل ہیں۔ اس لئے جب 2014ء میں امریکی اس خطے سے چلے جائیں گے تو یہ تحریک بھی تحلیل ہو جائے گی۔ نجم سیٹھی کے تجزیئے کے مطابق پنجاب پولیس اور یہاں کے سیاست دانوں نے لشکر جھنگوی کی کارروائیوں سے اغماض برتنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور لشکر ِ جھنگوی کے حامیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت بھی اس حد تک پائی جاتی ہے کہ وہ کم از کم چالیس حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حمایت کریں گے اور یہ کہ اس کے سیاسی قائدین کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔ ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے حکومت کو محض اشک شوئی کی خاطر کچھ تبادلے وغیرہ کرنے پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ محض دکھاوے کی خاطر کچھ چھاپے بھی مارے گئے تاکہ عوام کو لگے کہ حکومت کچھ کررہی ہے۔ تاہم خاطر جمع رکھیں، کچھ نہیں ہورہا ہے اور اب شاید ان نیم دلی سے کئے گئے اقدامات کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بہت دیر ہو چکی ہے۔نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ پوری سیاسی قیادت ایک صف میں کھڑی ہوکر سیکورٹی اداروں کی حمایت کرے اور صوبائی سطح پر متحرک اور فعال فورس قائم کی جائے جو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ ہو۔ اگر روایتی طرز ِ عمل جاری رہا تو پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا۔
.......
/169