19 فروری 2013 - 20:30

پروری ھزارہ ٹاون میں کچھ نہیں ھورھا دو گروپ بنے ہیں ایک مطالبہ کر رہے ہیں کہ تدفین کریں اور دوسرا مخالفت کرتے ہیں ۔ جہاں تک فائرینگ کی بات ہیں مشتعل مظاہرین نے کمیشنر کویٹہ کی گاڑی پر پتھراو کی۔ اسکی وجہ سے پولیس نے ھوائی فائرینگ کیا ۔ جس سے بھگڈر مچ گیا۔ باقی تدفین جاری ہیں ۔ کچھ لوگ پورا پاکستان میں چلنے والے دھرنے کو سبو تاژ کرنے کیلئے سارا کوشیش ھورہی ہیں

ابنا: شہداء کی تدفین کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، کوئٹہ کی فضا غم میں ڈوب گئی۔ ہمارا سلام ہو شیعہ نوجوانوں پر، جو اس مشکل ترین مرحلے میں ہمت و حوصلے سے کام لے کر تدفین کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی نہایت احترام کے ساتھ شہداء کے لواحقین کے عزم میں اضافے کا وسیلہ بن رہے ہیں۔ جائے تدفین کی دوسری طرف ہماری مائیں اور بہنیں نوحہ خوانی اور ماتم میں مصروف ہیں،

میڈیا بے بنیاد پروپگینڈا کر رہا ہے، ہماری مائیں اور بہنیں باغیرت اور منظم ہیں انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنے علماء اور رہنماؤں کا فیصلہ مان لیا ہے۔ تدفین سے انکار کی تمام باتیں منافقین کی پھیلائی ہوئی ہیں اور میڈیا لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر اس مسئلے کو اچھال رہا ہے۔سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے افواہیں پھیلانے والے میڈیا کی اس شرارت کا حصہ بن رہے ہیں، انہیں اصل حقیقت کا قطعی علم نہیں ہے۔ اصل حالات جاننے کے لئے ہزارہ ٹاؤن میں موجود نوجوانوں سے رابطہ کریں۔

.......

/169