18 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان نے سیکورٹی معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں ۔ اس معاہدے کے مطابق جس پر گذشتہ رات اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار اور پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے دستخط کئے ہیں ، دونوں ممالک سرحد کی سیکورٹی ،منشیئات اور انسان کی منصوبہ بند اسمنگلنگ سے مقابلے نیز اطلاعات کے بارے میں تعاون کا مزید تبادلہ کریں گے

ابنا: پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک نے امید ظاہر کی کہ ایران و پاکستان کے درمیان سیکورٹی معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام اور فروغ آئے گا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے بھی پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک سے ملاقات کے وقت ایران وپاکستان کے درمیان سیکورٹی کی مشکلات کو مشترک اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت قرار دیا اور اس بات پر تاکید کی کہ تہران واسلام آباد کے درمیان سیکورٹی تعاون معاہدہ دونوں ممالک اور علاقے کے مفاد میں ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر  نےاس تاکید کے ساتھ کہ ایران ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہے گا یہ امید ظاہر کی کہ حکومت پاکستان کی کوششوں سے اس ملک کو بدامنی میں تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی ۔صدر احمدی نژاد نے گیس وبجلی سیمت تمام مشترک منصوبوں پر عمل درآمد کے بارے میں ایران وپاکستان کے حکام  کی ہمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے پڑوسی ملک پاکستان کی ترقی وپیشرفت کے لئے  گیس وبجلی اورانرجی دینے کے سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرےگا۔پاکستان میں دہشت گردی مسائل اور اس ملک میں ہونے والے دھماکے دہشت گردانہ اقدامات کے واضح مصداق ہیں جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے دشمنان اسلام  کے اہداف کو پورا کرتے ہیں ۔یہ ایسے وقت ہے کہ عراق اور افغانستان میں بیرونی فوجوں کی موجودگی سے نہ صرف علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد نہیں کی ہے بلکہ اس کے برعکس بد امنی میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ علاقے کی مشکلات کا تعلق علاقے کے باہر سے ہے ۔اگر علاقائی ممالک کے درمیان مشترک نظریات کے مطابق باہمی تعاون میں اضافہ ہوجائے تو علاقے کی ترقی نیز علاقے کی مشکلات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے ۔لیکن  اس تعاون کا لازمہ یہ ہے کہ تمام ممالک ان مشترک خطرات کو اچھی طرح سے درک کرلیں جو علاقے کی قوموں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ایسی صورت میں مشترک پروگرام کے ذریعہ علاقے کے مسائل کو حل کرنے میں مؤثر اقدام کرسکتے ہیں ، ایران وپاکستان کے درمیان سیکورٹی تعاون معاہدے کو بھی ایک اور اہم قدم  قرار دیا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ علاقے کے سیکورٹی مسائل کے لئے بہت قریبی تعاون کی ضرورت ہے اسلامی جمہوریہ ایران  کا بھی خیال ہے کہ باہمی تعاون کے ذریعہ علاقے کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ اور مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔جیسا کہ پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اسلامی جمہوریہ ایران سے ملاقات کے موقع پر جو وعدہ کیا ہے اس سے امید ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے تمام  دہشت گرد گروہوں کو باہر نکال پھینکنے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لائے گا ۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے دہشت  گردی اور امریکہ کے ڈرون طیاروں کے حملوں کو پاکستانی حکام اور قوم  کی تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک علاقے کے ممالک خاص طور پر ایران ،افغانستان اور پاکستان ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے تعاون نہیں کریں گے  اس وقت تک علاقے میں امن وثبات قائم نہیں ہو پائےگا۔ بیرونی طاقتیں علاقے میں دہشت گرد گروہوں کو جنم دے کر خطے میں پھیلی ہوئی بدامنی سے خوب فائدہ اٹھارہی ہیں ۔ایسی صورت میں علاقائی ممالک کے مفادات کا تقاضا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے خطے کے مسائل و مشکلات کو کم کرنے کوشش کریں ۔ایران ،افغانستان اور  پاکستان کے لئے جو دہشت گردی اور جنگ کی اصل بھینٹ چڑھنے ممالک ہیں ۔علاقے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بد امنی سے مقابلے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپس میں ہمہ گیر تعاون کے فروغ  کے علاوہ کوئی چارہ  نہیں ہے ۔