4 فروری 2013 - 20:30

قیامت کے بغیر یہ دنیا مضحکہ خیز ہو جائے گی/ قرب الہی حاصل کرنے بعد انسان آئینہ پروردگار ہو جاتا ہے۔

ابنا نے رسا نیوز ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت آیت‌ الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں سورہ مبارکہ روم کی تفسیر کو بیان کرتے ہوئے کہا : معاد (قیامت) حتمی ہے اگر قیامت نہ ہو تو یہ جہان مضحکہ خیز ہو جائے گا ، اس لئے کہ اچھے اور برے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو پائے گا ؛ اس دنیا کی اصل قیامت کے روز تبدیل ہوگی اس لئے وہاں تک پہوچنا چاہیئے کہ جہاں حساب و کتاب پایا جاتا ہو تا کہ ہو شخص اپنے کارنامہ کا اجر حاصل کرے ، اگر تمام انسان معدوم ہوں اور ان کے مرنے کے بعد کچھ باقی نہ رہے تو مسلمان مجرم کی طرح ہو جائیں گے ، اگر کسی شخص نے قبول کیا ہے کہ اصل خلقت خدا کی طرف سے ہے تو دوبارہ زندہ کرنا اس کے لئے آسان ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی : خداوند عالم دوسروں کے وصف سے منزہ ہے لیکن خدا کے مخلص بندے اس کے محبوب ہو گئے ہیں ، جو قرب نوافل کے ذریعہ یہاں تک پہونچے ہیں اس مقام میں خدا کا فعل ان کا فعل ہو جاتا ہے ان کی زبان خدا کی زبان ہو جاتی ہے ان کا کان خدا کا کان ہو جاتا ہے اور اس طریقہ سے وصف کیا جاتا ہے کہ خدا کے شان کے مطابق ہو کہ انبیاء اور آئمہ اطہار (ع) اس طرح کے ہیں ، ہر انسان خدا سے ہے اور خدا کی طرف پلٹے گا لیکن جو شخص بھی جہاں سے آئے گا اس کی واپسی وہیں ہے جیسے مختصر بادل کی بارش سب سمندر سے آتے ہیں ، لیکن کم بادل والے بارش نہر کو جاری کرتے ہیں کہ جو سمندر کے کنارہ تک پہوچ پاتی ہے کیونکہ سمندر کے گہرائی سے نہیں آتے ہیں لیکن شدید بارش والے بادل سمندر کی گہرائی سے جا ملتے ہیں یہ دو پانی ھر دو دریا سے حاصل کئے جاتے ہیں لیکن اپنی اپنی جگہ واپس چلے جاتے ہیں ، تمام چیزوں کا وجود خدا کی طرف سے ہے اور سب اس کی طرف لوٹ کے جائے نگے ، وہ جو درمیانی اور نیچے مرحلہ میں ہیں وہ نیچے مرحلہ میں پہوچے نگے اور ان کا وہ مقام ابدی ہے ۔ابدی کا معنی یہ نہیں ہے کہ کمال کی طرف ان کی حرکت بھی ابدی ہوگی بلکہ یہ ثابت ہیں ، فیض کے دائم ہونے کا معنی یہ ہے کہ ایک مشخص موجود اس کے ساتھ حرکت کرے ، حرکت بغیر ھدف کے محال ہے ۔