3 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بارے میں امریکی نائب صدر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ پہلے امریکی حکام اپنی سچائی ، ثابت کردیں۔

ابنا: ایران کے وزیر خارجہ نے جو جرمنی کے دورے پر ہیں "یورونیوز " سے گفتگو میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ،براہ راست مذاکرات صرف اس وقت ہوسکتے ہیں کہ ایران کوامریکی حکام کی سچائی پر یقین حاصل ہو جائے کیونکہ ماضی میں امریکی حکام کے بیانات میں سچائی کے آثار نظر نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا: اگر مذاکرات کا موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے تو ہاں ہم اس پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دوسری جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔انہوں نے امریکہ کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ دونوں متضاد باتیں ہیں کہ ایک جانب تو آپ کہیں کہ ہم ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب آپ دھمکیاں دیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے ساتھ متصادم ہیں۔ اگر امریکہ اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے تو ہم بھی اسے سنجیدگی سے لیں گے‘۔ایران کے وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے اگلے دن سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔امریکی نائب صدر نے جرمنی میں ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات کو ہم چھپائیں گے نہیں بلکہ ہم اپنے اتحادیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گے۔ اگر دوسری جانب سے کوئی پیش قدمی دکھائی جاتی ہے تو مذاکرات کی دعوت موجود ہے لیکن وہ سنجیدگی پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہم یہ مذاکرات صرف ایک مشق کے طور پر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے ایران کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی مذاکرات کی دعوت سے بھر پور فائدہ اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ ’براہ راست مذاکرات پر آمادگی ایران کی جانب بڑھا ہوا ہاتھ ہے اور ہم ایران کی حکومت پر زور دیں گے وہ امریکہ کی اس دعوت کو رد نہ کرے بلکہ اسے قبول کرے۔ اب اس مسئلے کا سفارتی یا سیاسی حل نکالنا بہت اہم ہے‘۔