29 جنوری 2013 - 20:30

اسلامی دنيا كے علما اور دانشوروں كو چاہيئے كہ آج تكفيری افكار كے مقابلے كے لیے جو اسلامی دنيا كو درپيش بہت سے مسائل كی جڑ ہیں ، فكری اتحاد كی منصوبہ بندی كریں اور اس بات كو جان لیں كہ تكفيری افكار كے ساتھ مقابلہ وحدت اسلامی پر مبنی ڈپلوميسی تك پہنچنے كا پہلا قدم ہے ۔

ابنا: تہران میں جاری چھبيسویں بين الاقوامی وحدت اسلامی كانفرنس میں شريك اسٹريليا كے سابق مفتی اور قاہرہ میں "دار الصحوہ" نامی تقريب مذاہب مركز كے موسس "تاج الدين حامد عبد اللہ ہلالی" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران كہا : مسلمانوں كے پاس باعظمت دين اور عظيم پروردگار ہے اور اس دين مبين كی تعليمات قيمتی اور اس كا پيغمبر(ص) مؤمنين پر مہربان ہے ۔

انہوں نے مزيد كہا : ہم مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے بغیر امريكہ اور اسرائيل كی فوجی طاقت كے ساتھ مقابلہ كرنے كی طاقت نہیں ركھتے جبكہ آج اسلامی جمہوریہ ايران اس مسئلے كو خصوصی اہميت ديتے ہوئے وحدت اسلامی كانفرنس اور اس جيسی دوسری كانفرنسوں کے ذریعے مسلمانوں كی صفوں كر متحد كرنے كی كوشش كر رہا ہے ۔

.......

/169