22 جنوری 2013 - 20:30

ترکي کے مختلف شہروں سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق، پيٹرياٹ ميزائلوں کے تنصيب، اور نيٹو، امريکا، جرمني اور ہالينڈ کے ساتھ ہي اردوغان حکومت کے خلاف مظاہروں ميں وسعت آنے کے علاوہ بتايا گيا ہے کہ شہر اسکندرون ميں، سات جرمن فوجيوں پر ميزائلوں کے تنصيب کے مخالفين نے حملہ کرديا ہے -

ابنا: قابل ذکر ہے کہ دسمبر دو ہزار بارہ ميں ترکي کي حکومت نے نيٹو سے اپنے ملک ميں شام کي سرحد کے قريب پيٹرياٹ ميزائل نصب کرنے کي درخواست کي جس کو نيٹو نے فوري طور پر منظور کرتے ہوئے اعلان کيا کہ پيٹرياٹ ميزائل سسٹم جنوري دو ہزار تيرہ سے ترکي کے لئے ارسال کئے جائيں گے اور فروري کے مہينے سے ان کي تنصيب کا کام شروع کرديا جائے گا –
چنانچہ چند روز قبل پيٹرياٹ ميزائل سسٹم کے وسائل کي پہلي کھيپ ترکي کي اسکندرون بندرگاہ پہنچي ہے - شام اور ترکي کے درميان نو سو کلوميٹر لمبي سرحدي پٹي پائي جاتي ہے –
شام کے اندر ترکي کي مداخلت محتاج بيان نہيں ہے اس کے باوجود ترکي حکومت نے يہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہ شام اس پر ميزائلي حملے کرسکتا ہے، نيٹو سے پيٹرياٹ ميزائلوں کي تنصيب کي درخواست کي ہے -
اکثرآزاد  تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انقرہ حکومت نے يہ درخواست امريکا اور نيٹو کے کہنے پر ہي کي ہے تاکہ نيٹو کي جانب سے شام کا گھيرا تنگ کيا جاسکے -
  پروگرام کے مطابق امريکا ، جرمني اور ہالينڈ نے دو دو پيٹرياٹ ميزائل سسٹم ترکي ميں شام کي سرحد پر نصب کرنے کا فيصلہ کيا ہے - اسي کے ساتھ يہ بھي اعلان کيا گيا ہے کہ تينوں ملکوں ميں سے ہر ايک کے ساڑھے تين سو سے زائد فوجي بھي ان ميزائلوں کے کنٹرول کے لئے ترکي ميں تعينات ہوں گے -
ترکي کے عوام کے ساتھ حزب اختلاف کي جماعتوں نے بھي انقرہ حکومت اور اس کے مغربي حاميوں کے  اس فيصلے کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کيا ہے –
پيٹرياٹ ميزائلوں کي تنصيب کے مخالفين کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے  اعلانيہ اہداف کے ساتھ ہي کچھ خفيہ اہداف بھي ہيں –
ترکي کي سعادت پارٹي کے ايک رہنما مصطفي کمالاک ان اہداف کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ ترکي کو شام کي جانب سے کوئي خطرہ لاحق نہيں ہے ، بلکہ حقيقت يہ ہے کہ مغربي طاقتيں ترکي کے ذريعے صيہوني حکومت کے تحفظ کا انتظام کرنا چاہتي ہيں -
انہوں نے کہا کہ امريکا کے اينٹي ميزائل سسٹم کے ساتھ ہي پيٹرياٹ ميزائلوں کي تنصيب در اصل امريکا کے گريٹر مشرق وسطي کے پروگرام کا حصہ ہے -
  مخالفين اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اب تک ترکي ميں دو بار پيٹرياٹ ميزائل سسٹم نصب ہوچکے ہيں، ايک بار انيس سو اکانوے ميں اور دوسري بار دو ہزار تين ميں عراق پر حملے کے دوران، کہتے ہيں کہ اس بار بھي بيروني طاقتيں مشرق وسطي ميں کھلي مداخلت کے اہداف کے تحت ترکي ميں يہ سسٹم نصب کررہي ہيں -
  بعض سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ اينٹي ميزائل سسٹم کے ساتھ ہي جو پہلے ہي ترکي ميں نصب کيا جاچکا ہے، پيٹرياٹ ميزائل سسٹم کي تنصيب کے اہداف ترکي اور شام کي سرحدوں سے بالاتر ہيں -
   دوسري جانب صہیوني ریاست کے سيکورٹي اور انٹيليجنس کے ادارے  سے وابستہ دبيکا فائل نے اعلان کيا ہے کہ ترکي ميں شام کي سرحد کے قريب پيٹرياٹ ميزائلوں کي تنصيب کا مقصد شام کے اندر نو فلائي زون قائم کرنا اور حکومت شام کے خلاف فوجي آپريشن ہے -