20 جنوری 2013 - 20:30

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ايک ايسے وقت ميں جب وائٹ ہاؤس ميں باراک اوباما کے دوسرے دور صدارت کي تقريب حلف برداري، جاري تھي بہت بڑي تعداد ميں امريکي عوام نے وائٹ ہاؤس تک احتجاجي جلوس نکالا اور امريکي حکومت کي جانب سے صہیوني ریاست کي بے دريغ حمايت کي مخالفت کا اعلان کيا ہے -

ابنا:صدر باراک اوباما کے نئے دور صدارت کي تقريب حلف برداري کے موقع پر ہونے والے ان مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ امريکي عوام ميں صہیوني ریاست سے نفرت بڑھ چکي ہے-
مظاہرين نے صہیوني ریاست کي مذمت اور فلسطينيوں کي حمايت ميں نعرے لگائے -
واشنگٹن ميں صدر باراک اوباما کي تقريب حلف برداري کے موقع پر ہونے والے ان مظاہروں کي ايک خاص بات يہ ہے کہ ان ميں امريکا کي معروف امن کارکن آنجہاني رشل کيوري کے والدين بھي شريک تھے جن کو دو ہزار تين ميں صہیوني ریاست کے بلڈوزروں نے کچل کے ہلاک کرديا تھا - اس موقع پر رشل کيوري کے والد نے اپني تقرير ميں کہا کہ ميں يہاں حکومت امريکا کو بتانا چاہتا ہوں کہ انساني حقوق کي پامالي ميں صہیوني ریاست کي حمايت نہيں ہوني چاہئے -
امريکا کي جانب سے صہیوني ریاست  کي توسيع پسندي اور فلسطيني  عوام کي وحشيانہ سرکوبي کي بے دريغ حمايت پر امريکا کے اندر مختلف حلقوں کي جانب سے ہميشہ اعتراض کيا گيا ہے ليکن چونکہ امريکي ميڈيا پر صہیوني لابي کا قبضہ ہے اس لئے حتي الامکان  دنيا والوں کو ان اعتراضات سے بے خبر رکھنے کي کوشش کي گئ ہے -
ابھي حال ہي ميں امريکا کے جنگ مخالف گروپ نے بھي اس بات پر ‎سخت اعتراض کيا ہے کہ صہیوني ریاست فلسطينيوں کے قتل عام ميں امريکا کے ديئے ہوئے ہتھياروں سے کام ليتي ہے - اس گروہ نے امريکا سے مطالبہ کيا ہے کہ امريکي عوام سے ٹيکس ميں وصول کي جانے والي رقم صہیوني ریاست کو نہ دي جائے -

.......

/169