اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کا طویل دھرنا رنگ لے آیا، صدر مملکت نے بلوچستان میں گورنر راج کیلئے وزیراعظم کی سمری پر دستخط کر دیئے، جس کے بعد صوبے میں عملی طور پر گورنر راج نافذ ہوگیا۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کیلئے صدر مملکت کو سمری بھجوائی۔ صدر مملکت نے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان میں عملی طور پر گورنر راج کا نفاذ ہوگیا، صوبے میں گورنر راج دو ماہ کیلئے نافذ رہے گا۔ گورنر نواب ذوالفقار مگسی بدستور گورنر کے عہدے پر تعینات رہیں گے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سانحہ علمدار کے لواحقین سے ملاقات کے لئے کوئٹہ میں پنجابی امام بارگاہ پہنچے، گورنر بلوچستان اور وفاقی وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم نے شیعہ راہنماؤں کے مطالبات سنے، جس کے بعد انھوں نے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہاکہ پوری قوم لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے تعزیت کی۔ انہوں نے شیعہ شہداء کی میتوں کی باعزت طریقے سے تدفین کرنے کی اپیل کی۔وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ گورنر سانحہ کوئٹہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ایک قومی المیہ ہے جسے مل کر شکست دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کو مکمل اختیارات ہوں گے۔ اس موقع پر شیعہ راہنما وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے پر اصرار کرتے رہے۔ وزیراعظم نے 31 جنوری سے پہلے سانحہ علمدار روڈ کے لواحقین کو امدادی رقم فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور شیعیان کوئٹہ کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کا اعلان کیا۔دیگر ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں۔ گورنر ذوالفقار مگسی اب صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے ہیں۔ اس سمری کے بعد امکان ہے کہ جلد نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے صدر زرداری کو سمری بھیجی گئی تھی۔ اب بلوچستان میں گورنر راج قائم ہوگیا ہے۔ کوئٹہ میں 100 سے زائد شیعہ باشندوں کے قتل عام پر وزیراعظم نے بلوچستان حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ اعلان علمدار روڈ پر پنجابی امام بارگاہ میں تعزیت کے موقع پر کیا۔ کوئٹہ میں بم دھماکوں سے 100سے زائد افراد کے شہید ہونے پر صوبائی حکومت ختم کرنا پڑگئی۔ وزیراعظم نے پنجابی امام بارگاہ جا کر نواب اسلم رئیسانی کی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے صوبے میں فوری طور پر گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس پیشرفت کا کوئٹہ یکجہتی کونسل نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے چوروں سے بلوچستان کے شہریوں کی جان چھڑا دی ہے۔بشکریہ از اسلام ٹائمز
/169
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر سا عرض حال شیعیان پاکستان کے نام
کوئٹہ اس فتح میں تنہا نہ تھا اور اگرچہ تاخیر ضرور ہوئی لیکن ملت تشیع نے اپنے اتحاد کی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ تمام شہروں میں دھرنے دیئے گئے اور کئی دنوں سے لوگوں نے گھروں کا رخ نہیں کیا؛ خواتین نے حجاب کی طاقت کا مظاہرہ کیا بچوں نے فرزندان شہیدان کربلا کی سنت کا احیاء کیا۔ خون شہداء نے شکست دی شمشیر کو اور شمشیر برداروں کے حامیوں کو جو خون شہداء کی توہین کررہے تھے وہ سیاسی تاریخ کے میوزیم میں چلے گئے۔بعض لوگ اب بھی شیعیان کوئٹہ پر جفا کررہے ہیں اور انہیں ہزارہ کے نام سے یاد کرکے انہیں ملت تشیع سے الگ تھلگ کررہے ہیں اور اس جرم میں بیرونی میڈیا سمیت اندرونی میڈیا حتی کہ بعض شیعہ ذرائع ابلاغ بھی شامل ہیں۔ اس واقعے نے جو کہ بہت زیادہ اہم بھی نہيں ہے اور آج سے کچھ ہی دن قبل سپریم کورٹ نے بھی حکومت بلوچستان کو نااہل قرار دیا تھا اور شیعیان کوئٹہ و پاکستان نے صرف آخری ضرب لگا کر وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ایک حربہ تھما دیا چنانچہ شیعیان پاکستان کو یہيں رکنا نہيں چاہئے کیونکہ ذوالفقار علی مگسی ـ گورنر بلوچستان ـ بھی آزمائے ہوئے مہروں میں سے ایک ہے چنانچہ بیداری اور ہوشیاری کی ضرورت ہے اور شیعہ خون کو گذر زمان کا شکار نہیں ہونے دینا چاہئے اور اگر ایک ہفتے میں دیئے ہوئے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو اپنے اس اتحاد کو ایک بار پھر برسر بازار لانے کی ضرورت ہوگی۔ نواب مگسی نواب رئیسانی اور نواب فلاں اور نواب فلاں سب ایک جیسے ہیں چنانچہ ان کو فرشتہ نجات سمجھنا بصد معذرت حماقت ہوگی۔ یاد رکھو اتحاد ہر قوم کی طاقت ہے لیکن اتحاد کو فعال ہونا چاہئے اتحاد کے ساتھ بصیرت اور بیداری کی ضرورت ہے کوئٹہ میں اگر حکومت کو گرا کر دشمن کو نہتا کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے تو اب گرم بستر میں جاکر یہ سمجھنا کہ "ہمارا فرض ادا ہوگیا اور اب حکومت بلوچستان میں گورنر کی حکومت باقی فرائض سرانجام دے گی" تو یہ ناقابل تلافی اور ناقابل معافی بھول ہوگی اس بیدار ہوتی ہوئی قوم کے حق میں۔ کوئٹہ میں جب تک قومیت اور قوم پرستی کو ہر طرف سے تقویت دی جاتی رہی ان کارناموں کا تصور تک ممکن نہ تھا لیکن جب شیعہ کے نام پر پوری ملت سامنے آئے اور لبیک یا حسین (ع) سب کا واحد نعرہ بنا اور سب میدان میں نکل آئے تو حالت بدل گئی۔ یہ مذہب اہل بیت (ع) مکتب سیدالشہداء اور مدرسہ کربلا کی قوت ہے جہاں سے انسانیت کو بصیرت کا پیغام ملتا ہے۔ اسی بصیرت کی وجہ سے وفاقی حکومت کو ہلنا پڑا جبکہ اس سے قبل شیعیان پاکستان وزرائے اعلی، وزير داخلہ اور گورنروں حتی کہ وزرائے اعظم اور صدر سے دھوکا کھا چکے ہیں اور اب بھی لوگ وہی ہیں جو اقتدار کی کرسیوں سے چپکے ہوئے ہیں لیکن اگر شیعیان پاکستان بھی وہی رہے تو وہ ایک بار پھر دھوکا دے کر ہرگز ندامت محسوس نہ کریں گے لیکن شیعہ غفلت میں مبتلا ہوکر ضرور پشیمان ہونگے جبکہ معلوم نہيں ہے کہ پھر کب اس طرح کی بیداری کی لہر پورے ملک میں اٹھ سکے گی کیا سینکڑوں کی شہادت بیدار رہنے اور آنکھیں کھلی رکھنے کے لئے کافی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110