11 جنوری 2013 - 20:30

شیعیان کوئٹہ نے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے تک جمعرات کو شہر میں دھماکوں میں شہید ہونے والے شیعہ افراد کی لاشوں کو دفنانے سے انکار کیا ہے اور ان کا احتجاج جاری ہے۔

ابنا: کوئٹہ میں جمعرات کو ایک خود کش حملےاور دو بم دھماکوں میں پچانوے افراد کی ہلاکت کے بعد بلوچستان شیعہ کونسل نے شہید ہونے والے 74 شیعہ افراد کی لاشیں جمعہ کو علمدار روڈ پر رکھ کر احتجاجی دھرنا شروع کیا تھا جو ابھی تک جاری ہے۔بلوچستان میں شیعہ تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اس وقت تک لاشوں کی تدفین نہیں کی جائے گی۔بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ حکام کی مظاہرین سے بات چیت کا سلسلہ جمعہ کی رات سے جاری ہے اور اس میں جلد کامیابی کا امکان ہے جس کے بعد لاشوں کی تدفین ہو سکے گی۔پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر سے سنیچر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان حکومت کی درخواست پر ایف سی کو حکم دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے سول انتظامیہ کی مدد کرے۔ بیان کے مطابق ایف سی کو پولیس کے مکمل اختیارات حاصل ہونگے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کو بیرنی دورہ منسوخ کرکے جلد ملک واپس پہنچنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے ہر ہلاک ہونے والے کے لواحقین کے لیے دس لاکھ اور ہر زخمی ہونے والے کے لیے ایک لاکھ روپے کی امدادی رقم کا اعلان بھی کیا ہے؛ وہ اگلے ہفتے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے نمائندوں سے ملاقات بھی کریں گے اور انھوں نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد مہیا کرنے کے لیے انہیں C-130 جہاز کے ذریعہ کراچی بھیجنے کے احکامات بھی جاری کردیے ہیں۔ادھر ان دھماکوں کے زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ جس عمارت میں دھماکہ ہوا تھا اس کے ملبے سے ساری لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو پانچ گھنٹوں کے دوران ہونے والے ایک خودکش حملے اور دو بم دھماکوں میں پچانوے افراد شہید جبکہ ایک سو ستّر زخمی ہو گئے تھے۔بلوچستان کی حکومت اور شیعہ تنظیموں نے بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر تین دن تک سوگ اور عزاداری منانے کا اعلان کیا ہے بلوچستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی عالمی پیمانے پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ شیعہ تنظیموں نے تین دن تک عزاداری منانے کا اعلان کیا ہے۔ادھر کوئٹہ کی تاجر تنظیموں اور شیعہ برادری کی اپیل پر دھماکوں کے خلاف جمعہ کو شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی جس کی وجہ سے کوئٹہ کے تمام اہم کاروباری مراکز بند رہے جبکہ شہداء کی تدفین کے تناظر میں شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔علمدار روڈ پر دوہرے دھماکوں میں شہید ہونے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ فرنٹیئرکور بلوچستان کے ترجمان مرتضیٰ بیگ، کوئٹہ پولیس کے ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او سمیت نو اہلکار اور ایدھی اور دیگر رضاکار تنظیموں کے دس سے زائد کارکن بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ پاکستان کے نجی ٹی وی سماء کے نامہ نگار سیف الرحمان، ایک کیمرہ مین عمران شیخ اور نیوز ایجنسی این این آئی کے فوٹوگرافر اقبال بھی ان دھماکوں میں جان بحق ہو گئے تھے۔کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم یونائیٹد بلوچ آرمی نے پہلے جبکہ شدت پسند کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے بقیہ دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔واضح رہے کہ خونخوار وہابی سلفی دہشت گردوں کے حملے پاکستان کے بےگناہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل جاری ہیں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عدلیہ کے حکام  دہشت گردوں کو عدالت کے کٹھرے میں لانے اور انھیں قرار واقعی سزا دینے میں ناکام ہوچکے ہیں پورے پاکستان میں لاقانونیت کا دور ہے ہر طرف دہشت گردگشت کررہے ہیں دہشت گردوں کو وہابی سلفی مدرسوں سے بھر پور مدد مل رہی ہے جن کے خلاف پاکستانی عدلیہ کارروائی کرنے سے عاجز ہے پاکستانی عدلیہ کے جج صاحبان موت کے خوف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کررہے ہیں پاکستان میں عدالت بے بسی کا شکار ہے کوئٹہ کا دردناک واقعہ پاکستانی عدلیہ اور پاکستانی سکیورٹی دستوں کی ناکامی کا مظہر ہے کوئی شک نہیں کہ  پاکستانی عدلیہ اور حکومت کا دہشت گردوں کےرہنماؤں کےلئے نرم گوشہ موجود ہے ورنہ پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کرنا کوئی مشکل کام نہیں پاکستان کےسابق صدر مشرف نے پاکستان کے دہشت گرد رہنماؤں کو اچھی طرح لگام دے رکھی تھی  لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت اور عدلیہ نے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے رکھے ہے پاکستانی عدلیہ نے آج تک کسی دہشت گرد رہنما کو قرار واقعی سزا نہیں دی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف از خود نوٹس لیا۔واضح رہے کہ ابنا نے بہت پہلے نشاندہی کی تھی کہ بلوچستان میں شیعہ نسل کشی میں بظاہر مذہبی دہشت گرد ٹولوں سمیت بظاہر سیکولر بلوچ قوم پرست دہشت گرد شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110