اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عرب جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اور کہنہ مشق اخبار نویس محمد حسنین ہیکل نے اخوان المسلمین کے کے اس موقف کو مورد تنقید قرار دیا ہے کہ جمال عبدالناصر نے یہودیوں کو مصر سے نکال باہر کیا ہے اور اب انہیں مصر میں لوٹانا چاہئے۔ یہ سوال اپنی جگہ ابھی تک بےجواب ہے کہ آخر کل تک یہود و نصاری اور اسرائیلی ریاست کی شدید مخالفت کرنے والی جماعت کو یہودیوں اور اسرائیل کی فکر اس شدت سے کیوں لاحق ہوئی ہے؟ کیا یہ اقتدار کا تقاضا ہے؟ کیا اس جماعت میں بھی طالبان کی طرح حکمرانی کی صلاحیت نہيں ہے اور حکومت میں پہنچ کر اس جماعت کا تاریخی موقف عدم اہلیت کی وجہ سے بدلنا پڑا ہے؟ہیکل نے سی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: اخوان المسلمین کے راہنما مصری یہودیوں کے قضیئے سے واقفیت نہيں رکھتے اور ان کی یہ بات غلط ہے کہ "مصر یہودیوں کو تاوان ادا کرے"۔انھوں نے کہا: مصر میں قیام پذير اکثر یہودی صاحب ثروت تھے اور وہ دوسرے ممالک کی شہریت کے حامل تھے، وہ مصری کہلاتے تھے لیکن ان کے پاس فرانس اور برطانیہ کی شہریت تھی اور ان کے پاس مصری پاسپورٹ نہيں تھا، ان میں سے بعض فلسطین کی جنگ کے بعد مصر سے چلے گئے اور بعض دوسرے 1952 میں چلے گئے؛ بعض یہودی کمپنیاں جو مصر سے نکل گئی تھیں اور ان کے مالکان مغربی شہریت کے حامل تھے انہیں سنہ 1960 میں ہرجانہ ادا کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی تشہیری مہم کے تحت کہا جاتا ہے کہ مصر میں یہودیوں کو تشدد اور دباؤ کا سامنا تھا حالانکہ یہ بات درست نہيں ہے اور 1947 میں مصر میں 60 ہزار یہودی مقیم تھے جو مکمل طور پر امن و امان میں زندگی بسر کررہے تھے اور ان سے کوئی ناجائز فائدہ نہيں لیا گیا۔ انھوں نے کہا: اخوان المسلمین کی یہ بات غلط ہے کہ جمال عبدالناصر نے یہودیوں کو مصر سے نکال باہر کیا تھا کیونکہ جو یہودی جولائی 1952 کے انقلاب کے بعد مصر میں باقی تھے وہ 1956 کی جنگ کے بعد رضاکارانہ طور پر مصر سے چلے گئے۔انھوں نے کہا: فلسطین کے بارے میں کے خیالات نہایت افسوسناک ہیں کیونکہ مرسی نے اسرائیل کی طرف سے نوآبادیوں کی تعمیر کی مذمت نہيں کی، انھوں نے قدس کی حمایت نہیں کی میں مرسی سے اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کرنے کا مطالبہ نہيں کرتا لیکن اس بات کی طرف ان کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ قدس عالم اسلام کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے۔واضح رہے کہ مرسی اور اخوان المسلمین کا موقف بھی اس جماعت اور فرد کے برسراقتدار آنے سے قبل بالکل یہی تھا کہ قدس عالم اسلام کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد اس جماعت اور اس فرد کی پالیسیاں یکسر بدل گئیں اور فلسطین، قدس اور کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے بارے میں انھوں نے یو ٹرن لیا اور آٹھ روزہ جنگ میں اسرائیل کو بچانے کا بیڑا اٹھا کر انھوں نے ثابت کیا کہ برسراقتدار اخوان المسلمین نہ کسی کی دنیا کو سدھارسکتی ہے اور نہ ہی کسی کی آخرت کو بلکہ اقتدار میں پہنچ کر یہ جماعت بھی سیکولر جماعتوں کے رو میں بہہ جاتی ہے یا پھر انتہا پسندی کا شکار ہوکر الگ تھلگ ہوجائے گی۔ مصری عوام نے اسرائیل کے خلاف اخوان کا موقف مد نظر رکھ کر اس جماعت کو ووٹ دیا لیکن انہیں جو ملا اس کی ان کو توقع نہ تھی چنانچہ مصری عوام کا یہ پہلا تجربہ کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہورہا ہے اور آنے والے انتخابات کے نتائج بالکل مختلف ہوسکتے ہیں۔ہیکل نے مرسی کو اقتدار پرست قرار دیا اور کہا: مرسی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ حقائق کا اعتراف نہیں کرتے اور ملکی مشکلات اور بحرانوں کو حل کرنے کی اہلیت نہيں رکھتے؛ ان کی پالیسیاں ناپختہ اور غیر سنجیدہ ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی میں عالم عرب کا دور دور تک نام و نشان تک نہيں ہے۔ محمد حسنین ہیکل نے اپنی تنقید کا سلسلہ عرب ممالک کے حکمرانوں تک بھی پھیلایا اور کہا: سرد جنگ کےبعد عرب حکمران پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں، وہ اپنے دفاع کے لئے مشقت اٹھانے کی اہلیت کھوچکے ہیں اور ایسے لوگ عالم عرب پر مسلط ہوئے ہیں جو معاملات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں۔انھوں نے مصر کو درپیش معاشی مسائل کے بارے میں کہا: مصر کی معاشی بدحالی کا ایک سبب مرسی کا حالیہ خطاب ہے، مرسی ایک سیاستدان کی حیثیت سے نامناسب وقت پر غلط فیصلے کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
4 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 378596
صدر مرسی کے فیصلوں پر عرب دنیا کے بادشاہ صحافت محمد حسنین ہیکل نے مصری صدر کی طرف جمال عبدالناصر پر تنقید اور یہودیوں کو ایک بار پھر مصر میں بسانے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: یہودی 1956 میں رضاکارانہ طور پر مصر سے چلے گئے تھے/ مرسی اقتدار پرست ہیں وہ حقائق کا اعتراف نہیں کرتے، بحرانوں کو حل کرنے کی اہلیت نہيں رکھتے؛ ان کی پالیسیاں ناپختہ اور غیر سنجیدہ ہیں۔