ابنا: شیعہ علماء کونسل کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں مستونگ کے علاقہ درینگڑھ میں مقامات مقدسہ کی زیارت کو جانے والی زائرین کی دو بسوں پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 40 زائرین کی شہادت اور دو درجن سے زائد کے شدید زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ زائرین پر مسلسل اور متواتر حملوں سے ایک طرف تو امن و امان کے ضامن اداروں کی مکمل ناکامی ظاہر ہوتی ہے اور دوسری جانب ریاستی اداروں کی مجرمانہ غفلت کا پتہ چلتا ہے، تاہم یہ بات سب پر واضح ہو کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے نہ تو زائرین کے شوق زیارت میں کمی آسکتی ہے اور نہ ہی ان کی مقامات مقدسہ سے والہانہ عقیدت اور جذباتی وابستگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔علامہ ساجد نقوی نے سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور پسماندگان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی اور شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے کارکنوں کو امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر گذشتہ سانحات کے مرتکب مجرموں اور قاتلوں کا کھوج لگا کر ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کیا جاتا اور دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جاتا تو ایک بار پھر ملک کی فضا درجنوں شہداء کے غم میں سوگوار نہ ہوتی اور نہ ہی سینکڑوں خاندانوں کو اپنے پیاروں کے خون آلودہ لاشے اٹھانا پڑتے۔۔۔۔۔۔۔۔/110
30 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 377092
انھوں نے کہا کہ اگر گذشتہ سانحات کے مرتکب مجرموں اور قاتلوں کا کھوج لگا کر ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کیا جاتا اور دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جاتا تو ایک بار پھر ملک کی فضا درجنوں شہداء کے غم میں سوگوار نہ ہوتی اور نہ ہی سینکڑوں خاندانوں کو اپنے پیاروں کے خون آلودہ لاشے اٹھانا پڑتے۔