ابنا: شام سے موصولہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب اور علاقے کی رجعت پسند حکومتوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کے جرائم بڑھ گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کی جانب سے کیمیائی اسلحے کے استعمال کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے جس کی بابت شام کی حکومت کے ساتھ ہی عالمی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دریں اثناء روس کے وزیر خارجہ سرگئ لاؤروف نے کہا ہے کہ اس وقت شام کے بحران کے تعلق سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس ملک میں سرگرم دہشتگرد گروہ ممنوعہ کیمیاوی اسلحے استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اورعرب لیگ سمیت سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ اس وقت اصلی خطرہ یہ ہے کہ دہشتگرد گروہ کیمیائی اسلحے تک دسترسی حاصل کرسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے ایک بیان جاری کرکے شام کے عوام کے مختلف طبقات منجملہ عیسائی برادری کو دہشتگرد گرہوں کی جانب سے دھمکیاں دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس قسم کی دھمکیاں اور اقدامات اسلامی تعلیمات اور انسانی اصولوں کے خلاف ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شام میں سرگرم دہشتگرد گروہوں نے عیسائی آبادی کے دو شہروں کے باشندوں کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ دہشتگرد گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حما اور اس کے مضافات سے شام کی افواج پیچھے نہ ہٹیں تو عیسائی آبادی کے دوشہروں، محردہ اور السقیلبیہ پر حملہ کردیا جائے گا۔ دہشتگردوں نے ان دونوں شہروں کے باشندوں سے کہا ہے کہ اپنے شہروں سے سرکاری افواج کو باہر نکالیں اور سیرین لبریشن آرمی کے ساتھ تعاون کریں ورنہ دوسری صورت میں ان پر سخت ترین حملہ کیا جائے گا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ کچھ عرصہ پہلے شام کی فوج کو ایسی دستاویز ملی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ دہشتگردوں نے شام سے عیسائیوں کو نکال باہر کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق جس پر القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری کے دستخط اور مہر موجود ہے اس گروہ کے دہشتگردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شام میں عیسائیوں کو وحشت زدہ کرنے کے لئے کسی بھی طرح کے تشدد سے گریز نہ کیا جائے ، ان کے لیڈروں اور شخصیات کو انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کیا جائے اور عیسائیوں کا قتل عام کرکے شام کو ان کے وجود سے پاک کیا جائے۔ اسی کے ساتھ اطلاعات ہیں کہ مختلف علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوج کے آپریشن میں بھی تیزی آگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110