19 دسمبر 2012 - 20:30

کراچی میں گزشتہ روز چار خواتین پولیو ورکرز کے قتل کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر اسی سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا، جب کہ رات گئے ایک خاتون کے قتل کا مقدمہ قائدآباد تھانے میں درج کرلیا گیا۔

ابنا: کراچی میں دہشت گردوں نے چار خواتین پولیو ورکرز کو نشانہ بنایا تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو پتہ چلا کہ ہلاکتوں میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔ ملزمان کی تلاش شروع ہوئی اور مختلف مقامات سے ساٹھ سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ رات گئے اورنگی ٹاؤن میں بھی چھاپے مارے گئے اور پچیس افراد کو حراست میں لیا گیا، جب کہ ایک واقعہ کا مقدمہ قائد آباد تھانے میں درج کیا گیا۔
اس سے پہلے کراچی کے تین مختلف علاقوں میں پولیو ورکرز کو نشانہ بنایا گیا، لانڈھی کے علاقے گلشن بونير جہاں انسداد پولیو ٹیم مصروف عمل تھی۔ خواتین ، مرد اور انہی میں فہمیدہ اور مدیحہ بھی تھیں۔ اس دوران اچانک گولیاں برسنے لگیں۔ بوچھاڑ تھمی تو بچوں کو معذوری سے بچانے والی فہمیدہ اور مدیحہ فرض کی راہ میں قربان ہو چکی تھیں۔
عین اُس وقت جب دو خواتین گلشن بنیر میں دم توڑ رہی تھیں۔ اورنگی ساڑھے گیارہ میں نسیم اختر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ نسیم تو جان سے گئی ساتھی اسرار زخموں سے چور اسپتال جا پہنچا۔
بلدیہ ٹاون میں انسداد پولیو مہم کی رضاکار کنیز بھی گولیوں کی زد میں آئی اور زندگی کی بازی ہار گئی۔ دہشت گرد اس منظم کارروائی کے بعد باآسانی فرار ہوگئے اور پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔
دہشت گردوں کا نشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس تنصیبات تو تھیں ہی اب انسداد پولیو مہم بھی محفوظ نہیں۔ پولیو مہم اپنے آغاز سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ سترہ دسمبر کو پہلے ہی روز دہشت گردوں نے عالمی ادارہ صحت کے رضاکار کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ ایسے میں امید تھی کہ جان ہتھیلی پر لیے گھر گھر پھرنے والوں کو سیکیورٹی ضرور ملے گی لیکن یہ دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110