16 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے ترکی میں نیٹو میزائل سسٹم کی تنصیب کو خطرناک قراردیا ہے۔

ابنا: جنرل ڈاکٹر سید حسن فیروزآبادی نے کہا ہے کہ یورپ امریکہ اور ترکی کے دانشوروں اور ارباب حل و عقد کو چاہئے کہ وہ آگ کے شعلے بھڑک اٹھنے سے پہلے ترکی میں اس میزائل سسٹم کی تنصیب کا پروگرام ترک کردیں۔ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے تہران میں اعلی فوجی کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کی سرحدوں کے اندر نیٹو کے پٹریاٹ میزائیل کی تنصیب کے منصوبے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے شام اور ترکی کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ جائےگا۔جنرل فیروزآبادی نے کہا کہ ہم ترکی کے دوست ہیں اور ترکی کے لئے امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ ترکی میں پیٹریاٹ میزائل کی تنصیب کا مقصد صہیونی ریاست کی سیکورٹی کو یقینی بنانا اور علاقے میں شام کے دفاع کے لئے روس کی ممکنہ موجودگی کی تشویش کو روکنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان میں سے ہر میزائل سسٹم دنیا کے نقشے پر ایک سیاہ دھبہ ہے اور افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آئے دن ایک نہ کوئی نہ کوئی یورپی ملک کہتا نظر آتا ہے کہ "ہم پیٹریاٹ میزائل شام کی سرحد پر نصب کرنےوالے ہیں"۔ جنرل فیروزآبادی نے کہاکہ درحقیقت یہ یورپی ممالک شام کے خلاف جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں جو آگے چل کر پوری انسانیت اور خود یورپی ملکوں کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110