15 دسمبر 2012 - 20:30

کراچی میں شیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام جمعہ کے روز پورے پاکستان ـ بالخصوص ـ کراچی میں شیعہ عمائدین و عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاجی دھرنا 39 گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں جمعہ کے روز شیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام اور تمام علاقائی اور قومی شیعہ تنظیموں کی شراکت سے شیعہ نسل کشی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاجی دھرنا مطالبات کی منظوری کے بعد 39 گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔شیعہ علماء کونسل پاکستان کی اپیل پر جمعہ کو نمائش چورنگی پر شروع ہونے والے احتجاجی دھرنے کو شیعہ علماء کونسل نے اتوار کے روز علی الصبح حکومت کی جانب سے تمام مطالبات کو تسلیم کئے جانے کے بعد ختم کرنے کا اعلان کردیا کونسل نے سندھ بھر میں ٹریفک جام کرنے سمیت احتجاج کی اپیل بھی اس وقت واپس لے لی جب گورنر سندھ عشرت العبادخان کے ساتھ ہونے والے کامیاب مذاکرات اور ملت جعفریہ کے مطالبات تسلیم کئے جانے کا اعلان کیا گیا۔واضح رہے کہ دو روز تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے شیعہ علماء و عمائدین بشمول شیعہ علماء کونسل پاکستان کے رہنما مولانا ناظر عباس تقوی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی سمیت دیگر شیعہ جماعتوں کے رہنماؤں کو گورنر ہاؤس میں مذاکرات کی دعوت دی اور گورنر سندھ نے وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے مذاکرات میں ملت جعفریہ کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ تمام مطالبات پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔گورنر سندھ نے وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے ملت جعفریہ کے عمائدین کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت بہت جلد شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے گی اور دہشت گردوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔گورنرس سندھ کی جانب سے مطالبات کو تسلیم کئے جانے اور یقین دہانی کے بعد شیعہ علماء کونسل نے اتوار کے روز علی الصبح احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔شیعہ علماء کونسل پاکستان نے ملت جعفریہ کی دھرنے میں بھرپور شرکت اور دھرنے کو کامیاب بنانے پر پوری قوم کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مذاکراتی کمیٹی کے پیش کردہ مطالبات:آئندہ کسی پر بھی جھوٹا توہین رسالت کا مقدمہ قائم نہیں کیا جائے اور اس سلسلے میں موجود قانونی پیچیدگیوں کو دور کیا جائے، علامہ آفتاب حیدر جعفری و دیگر شہداء کے قاتل فی الفور گرفتار کئے جائیں، دہشت گردوں کی سیاسی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، قراقرم یونیورسٹی کے جن لڑکوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے گئے ہیں ان تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنایا جائے، جن مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کو صدر زرداری کے حکم پر روکا گیا ہے ان کی سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جو این جی اوز سزائے موت کی سزا کو ختم کرانے کے لئے کوشاں ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، شہداء کے خاندانوں میں سے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ بعد ازاں شرکائے دھرنا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔۔۔۔۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شیعہ راہنماؤں نے مظاہروں، دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے ذریعے شیعہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت نے بھی مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب شیعہ عمائدین نے ایک بار پھر حکومت کے وعدوں پر اعتماد کیا ہے اور توقع یہی ہے کہ اس بار حکومت ان کی توقعات پوری کرنے کی حقیقی کوشش کرے ورنہ یقینی امر ہے کہ آنے والے دنوں میں شیعہ عمائدین زیادہ مؤثر قدم اٹھاسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110

کراچی ـ تصویر/ شیعیان اہل بیت (ع) کےاحتجاجی دھرنےکا دوسرا روز 1

کراچی ـ تصویر/ شیعیان اہل بیت (ع) کےاحتجاجی دھرنےکا دوسرا روز 2

پہلے روز کی تصویریں:

ـ کراچی میں ایس یو سی کے زير اہتمام شیعہ قتل عام کے خلاف بےمثل مشترکہ احتجاج